قطر سے عرب ممالک کے سفارتی تعلقات کے انقطاع پر بین الاقوامی ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی برادری نے مختلف عرب اورا سلامی ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں اور اس پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی حمایت کررہا ہے۔ان ممالک کے بعد یمنی حکومت ،لیبیا کی مشرقی حکومت اور مالدیپ نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا ا علان کیا ہے۔

کریملن نے اس فیصلے پر اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے:’’ یہ روس کے مفاد میں ہے کہ خلیج میں صورت حال مستحکم اور پُرامن رہے‘‘۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک فون کانفرنس میں کہا :’’ ماسکو کو امید ہے کہ خلیج میں موجودہ سفارتی تنازع ’’ بین الاقوامی دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ کے ’’مشترکہ ارادے ‘‘پر اثر انداز ہوگا‘‘۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ’’ عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے ۔ہم ہر کسی پر یہ زور دیں گے کہ اس معاملے میں بات چیت کی جائے گی‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے سڈنی میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ امریکا نے اپنے خلیجی اتحادیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کا خاتمہ کریں ‘‘۔

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے قطر اور دوسرے عرب ممالک کے درمیان تنازع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ان ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ خطۂ خلیج کا استحکام ہمارے اتحاد اور یک جہتی سے جڑا ہوا ہے۔ممالک کے درمیان یقینی طور پر بعض ایشوز پیدا ہوجاتے ہیں لیکن ان مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے کسی بھی صورت حال میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ ہمیں موجودہ صورت حال پر افسوس ہے ۔ہم حالات معمول پر لانے کے لیے کوئی بھی مدد دینے کو تیار ہیں‘‘۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بعض خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے سے ان کے ملک پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک کا ایک داخلی معاملہ ہے۔اس سے ہمارے لیے کوئی چیلنج پیدا نہیں ہوا ۔ ہمیں صرف وہاں بھارت کے امور سے متعلق دلچسپی ہے۔ہم صرف یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی بھارتی تو وہاں پھنسا ہوا نہیں ہے‘‘۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اپنے ردعمل میں صرف اتنا کہا ہے کہ ’’پاکستان کا قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘‘۔ واضح رہے کہ پاکستان کے تمام خلیجی عرب ممالک کے ساتھ اچھے برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں