لندن حملوں کا ایک دہشت گرد پاکستانی نکلا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہفتے کی شب لندن میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے مرتکب 3 تخریب کاروں میں سے ابھی تک صرف ایک کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ ان حملہ آوروں نے ویگن کے ذریعے کچل کر اور پھر چاقوؤں کے واروں کے ذریعے کم از کم 7 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جب کہ اس دوران 48 دیگر زخمی بھی ہوئے۔

اتوار کے روز برطانوی اخبار Sunday Express نے اپنی ویب سائٹ پر ایک وڈیو جاری کی تھی جس میں دو حملہ آور سبزیوں اور پھلوں کی عوامی مارکیٹ کے قریب نظر آ رہے ہیں۔ اس وڈیو کو جائے مقام پر موجود ایک شخص نے اپنے موبائل فون کے ذریعے بنایا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی یاد دہانی کے لیے اس کو دوبارہ نشر کیا ہے۔

البتہ وہ تصویر جس میں حملہ آور مقتول حالت میں نظر آ رہے ہیں اسے برطانوی پولیس نے تقسیم کیا تھا۔ اس تصویر میں حملہ آوروں کی لاشیں ایک ریستوران کے قریب سڑک پر پڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں جن کو برطانوی SAS کے 12 ارکان نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلایا۔ یہ ارکان فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آفت زدہ پُل پر پہنچے تھے۔

ادھر جس ایک حملہ آور کی شناخت کا انکشاف ہوا ہے اس کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس نے برطانیہ میں پرورش پائی۔ پولیس نے مقامی میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پاکستانی اور اس کے خاندان کا نام پیر کے روز منظر عام پر نہ لایا جائے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ عنقریب اس پاکستانی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں انکشاف کیا جائے گا۔ پیر کے روز برطانوی ذرائع ابلاغ میں دستیاب قلیل معلومات کے مطابق مذکورہ پاکستانی کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان ہے اور وہ اپنے شدت پسند نظریات کی وجہ سے معروف ہے۔

واضح رہے کہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ برطانیہ کے اندر دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے۔ اس سے قبل مارچ میں گاڑی اور چاقو کے ذریعے ویسٹ منسٹر میں ہونے والے ایک حملے میں 5 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تقریبا دو ہفتے قبل مانچسٹر میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔

ہفتے کے روز لندن بِرِج میں ویگن کے ذریعے روندے جانے والوں میں کینیڈا کی ایک 30 سالہ خاتون شہری Christine Archibald بھی شامل ہے جو دو ہفتے قبل اپنے برطانوی منگیتر کے پاس لندن پہنچی تھی۔ کرسٹائن ہفتے کی شب اپنے منگیتر کے ساتھ "لندن بِرِج" کی فٹ پاتھ پر موجود تھی کہ اس دوران ویگن چلانے والے دہشت گرد نے مختلف لوگوں کے ساتھ اس کو بھی کچل ڈالا۔ اس پر وہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گئی اور کچھ دیر بعد اپنے منگیتر کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی کرسٹائن کی موت پر گہرے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں