مریم رجوی کا اسلامی۔ امریکی سربراہ کانفرنس کا خیر مقدم

’ایرانی رجیم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مآخذ ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں اپوزیشن کی نمائندہ قومی مزاحمتی کونسل کی چیئر پرسن مریم رجوی نے گذشتہ دنوں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی عرب۔ اسلامی۔ امریکی سربراہ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کی سیاسی قیادت کی طرف سےانتہا پسندی، جنگوں اور دہشت گردی کا ماخذ ایران کو قرار دینے کا اعلان ایک حقیقت ہے۔ ایران میں ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام ہی خطے میں بدامنی اور دیگر تمام مسائل کی جڑ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیریس میں قومی مزاحمتی کونسل کے صدر دفتر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم رجوی نے کہا کہ عرب خطے سے ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کی تمام معاون ملیشیاؤں کو نکال باہر کیا جائے اور ساتھ ہی اسلامی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت منسوخ کی جائے۔

’آسمانی مذاہب انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دیتے‘ کےعنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی اپوزیشن رہ نما نے کہا کہ عرب خطے کی اقوام ایرانی ولایت فقیہ پرمبنی دہشت گردانہ نظام کی تباہ کاریوں سے متاثر ہیں۔

انہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع پر زور دیا کہ وہ ایرانی رجیم اور ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رجیم ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے جو خطے میں دہشت گردی درآمد کرنے اور جنگی چھیڑنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

مریم رجوی کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات ہر قسم کے جبرو اکراہ سے پاک ہیں۔ جبری کسی کو حجاب کرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کو روزہ رکھنے اور نماز ادا کرنے پرمجبور کیا جاسکتا ہے۔ ایران میں اہل سنت کو مساجد کی تعمیر سے روکنے والی حکومت لوگوں سے کس منہ سے شہریوں کو صوم وصلواۃ کا پابند بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

مریم رجوی نے حال ہی میں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی عرب۔ اسلامی ۔ امریکی سربراہ کانفرنس کا خیر مقدم کیا اور اسے درست سمت میں اہم قدم قرار دیا۔

مریم رجوی کا کہنا تھا کہ خطے کی سیاسی قیادت کا اس بات پر اتفاق درست ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور خطے میں جاری خانہ جنگی کے پیچھے ایرانی ولایت فقیہ کا ہاتھ ہے۔

ایرانی اپوزیشن رہ نما نے ملک میں ولایت فقیہ کے نظام کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، وحشیانہ جرائم، علاقائی سطح پر دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مدخلت، فرقہ واریت کے فروغ اور اسلام کے نام پر عوام الناس کو گمراہ کرنے کے ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حسن روحانی کا کرسی صدارت پر دوبارہ فائز ہونا بھی ایک حربہ ہے جس کا مقصد ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کو جاری رکھنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں