مصر سے مذاکرات کے لیے حماس وفد کی قاہرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد غزہ کے علاقے میں جماعت کے لیڈر یحییٰ السنوار کی قیادت میں کل اتوارکو قاہرہ پہنچا ہے۔ حماس کے وفد کی آمد کا مقصد مصر کے ساتھ جاری بحران کے حل اور دیگر حل طلب مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔

حماس کے ترجمان ’حازم قاسم‘ نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے صدر یحییٰ السنوار کی قیادت میں ایک وفد کل قاہرہ پہنچا ہے۔ حماس کا وفد قاہرہ حکام سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی گیارہ سال سے مسلط معاشی پابندیوں اور ان کے نتیجے میں عوام کو درپیش مشکلات، ان کےحل، غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کے لیے مصری کردار، رفح گذرگاہ کھولےجانے سمیت دیگر حل طلب امور پربات چیت کرے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مصری قیادت اور حماس کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے میں بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں مسئلہ فلسطین اور حماس اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔

حماس کا وفد غزہ کی پٹی کی سرحد پر سیکیورٹی تعاون اور رفح گذرگاہ کو کھولے جانے کے حوالے سے بھی بات چیت کرے گا تاکہ محاصرے کا شکار غزہ کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ غزہ کے علاقے کا بین الاقوامی دنیا سے رابطے کا وحد راستہ مصر کی طرف سے رفح گذرگاہ ہے مگر یہ گذشتہ 2013ءکے بعد سے قریبا مستقل بند ہے۔ سال بھر میں یہ گذرگاہ محض چند ایام کے لیے کھولی جاتی ہے۔ سرحد کی بندش اوراسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بدترین بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں بجلی اور پانی کے بحران زیادہ خطرناک شکل اختیار کرگئے ہیں۔

حماس رہ نما یحییٰ السنوار مصر کے ساتھ مذاکرات کے کسی وفد میں پہلی بار شامل ہو رہے ہیں۔ انہیں چند ماہ قبل غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کی جگہ جماعت کے سیاسی شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسماعیل ھنیہ کو مرکزی پولیٹ بیورو کا صدر منتخب کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں