.

دہشت گردی سے متعلق موقف نے قطر کو تنہا کردیا

دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والوں میں مالدیپ اور موریشس بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کی دہشت گردی نواز پالیسی نے اسے عالمی سطح پر تنہا کردیا ہے۔ داعش اور اخوان المسلمون جیسی تنظیموں کی حمایت قطرکو مہنگی پڑی ہے اور سعودی عرب سمیت اب تک سات ممالک نے دوحہ کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

الحدث چینل کی رپورٹ کے مطابق قطر کا سفارتی بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، یمن، مالدیپ اور موریشس بھی شامل ہیں۔ ان ممالک نے اپنی فضائی حدود قطری فضائی کمپنیوں کے لیے بند کردی ہیں۔ قطر کا بائیکاٹ کرنے والوں میں مشرقی لیبیا کی عقیلہ صالح کی زیرنگرانی پارلیمنٹ بھی شامل ہے۔

دہشت گردی کی تعریف اور دہشت گرد گروپوں سے معاملات کے بارے میں خلیجی ریاست قطر کا موقف اور پالیسی دوسری خلیجی ریاستوں کی پالیسیوں کے مغایر رہی ہے۔ قطر نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کی حمایت مالی اور لاجسٹک مدد کرتا رہا بلکہ دوسرے ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت بھی جاری رکھی۔

قطر کی اسی دہشت گردی نواز پالیسی نے آج اسے اپنے پڑوسی ملکوں اور عالمی سفارتی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے قطری سفارتی عملے کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ قطر اور پڑوسی ملکوں کے لیے آمد ورفت کے تمام زمینی، فضائی اور بحری راستے بند کردیے ہیں۔ قطر کی کسی فضائی کمپنی کو بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کی فضائی حدود سے گذرنے یا ان کے ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں۔

ان ممالک کے شہریوں کو قطر کے سفر سے روک دیا گیا اور قطر میں مقیم شہریوں کو 14 دن کے اندر اندر وآپس آنے کو کہا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی الاتحاد ایئرلائن، فلائی دبئی، العربیہ اور الخلیج نے دوحہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔ تین دوسرے خلیجی ملکوں کے فضائی ایو ایشن کے محکموں نے قطری ہوائی جہازوں کو لینڈ کرنے یا اڑان بھرنے پر پابندی عاید کی ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب اتحاد کی جانب سے جلد ہی قطر کے اخراج کا بھی اعلان کیا جائے گا۔