.

قطر امیرِ کویت کی مصالحتی کوششوں کو موقع دینے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر ی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ عرب طاقتوں کی جانب سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد ان کا ملک مصالحتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ امیر قطر نے کویت کو علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک موقع دینے کی غرض سے اپنی تقریر موخر کردی ہے۔

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے رات امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے فون پر گفتگو کی تھی اور اس کے بعد اپنی تقریر موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل میں شامل دو ممالک کویت اور اومان نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کیے ہیں۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ قطر امیر کویت شیخ صباح کو بحران کے فریقوں سے ابلاغ اور اس ایشو کو حل کرنے کا موقع دینا چاہتا ہے ‘‘۔

الجزیرہ نے وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ شیخ تمیم امیر کویت کو اپنے باپ کی مانند قرار دیتے ہیں اور انھوں نے ان کی خواہش کے احترام میں اپنی تقریر یا ممکنہ اقدام موخر کیا ہے تاکہ اس دوران میں بحران کی ایک واضح تصویر سامنے آ سکے۔

شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات سے اس کے شہریوں اور خلیجی عرب خطے میں خاندانوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی لیکن دوحہ جوابی اقدامات نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قطر اس بات میں یقین رکھتا ہےکہ برادر ممالک میں اس طرح کے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔اس فیصلے کے تحت ان تینوں ممالک نے قطر میں مقیم اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا ہے اور قطری شہریوں کو اپنے اپنے ملک سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔ یمن ، لیبیا کی مشرقی حکومت اور مالدیپ نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع کر لیے ہیں ۔ یمنی حکومت نے قطر پر اپنے دشمنوں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کے حالیہ بیانات کے بعد خلیجی ممالک کے درمیان یہ نئی کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور قطر کی جانب سے مبینہ طور پر انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے ردعمل میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں۔ سعودی عرب نے قطر پر القاعدہ ، داعش اور اخوان المسلمون ایسے گروپوں کو اپنے ہاں پناہ دینے اور ان کی پشت پناہی کرنےکے الزامات عاید کیے ہیں۔