.

قطر 2022ء کے فٹبال عالمی کپ کی میزبانی سے ہاتھ دھو سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار " ٹیلی گراف" نے اپنی ایک رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ قطر سال 2022ء کے فٹ بال عالمی کپ اور کئی دیگر اہم بین الاقوامی سرگرمیوں کی میزبانی سے قاصر ہو سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق سعودی عرب اور امارات سمیت متعدد عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے اور دوحہ کے لیے پروازوں کا سلسلہ موقوف ہوجانے کے بعد اس طرح کے سوالات سامنے آ رہے ہیں کہ.. آیا قطر عالمی کپ اور دیگر بین الاقوامی سرگرمیوں کی میزبانی کے لیے مطلوب تنصیبات کی تیاری کے سلسلے میں ترقیاتی کارروائیوں کو جاری رکھنے پر قادر ہے جب کہ خشکی کے راستے اس کی واحد سرحد اور کئی ممالک کی فضائی حدود کی بندش ہو چکی ہے۔

یہ بات معروف ہے کہ قطر میں حالیہ طور پر جاری بہت سی تعمیراتی سرگرمیاں اُن کمپنیوں کے منصوبے ہیں جن کے صدر دفاتر دبئی میں قائم ہیں یا پھر یہ عالمی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اپنے کام کرنے والوں کو دبئی اور دوحہ میں ضخیم منصوبوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی گزرگاہ "ابو سمرہ" سے روزانہ 600 سے 800 ٹرک گزرتے ہیں جن پر مختلف نوعیت کا سامان لدا ہوتا ہے۔ جہاں تک قطر کی فضائی کمپنی کا تعلق ہے تو وہ دوحہ اور دبئی کے درمیان آمد و رفت کے لیے روزانہ 19 پروازیں چلاتی ہے۔ ان کے علاوہ دونوں شہروں کے درمیان دیگر فضائی کمپنیاں بھی درجنوں پروازیں چلاتی ہیں۔ دوحہ اور ابوظبی کے درمیان قطر کی فضائی کمپنی کی روزانہ 6 پروازیں ہیں۔