.

لندن : دہشت گردی میں ملوث تیسرے مشتبہ حملہ آور کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں ہفتے کی شب تباہ کن حملے میں ملوث تیسرے مشتبہ حملہ آور کی بھی غیر سرکاری شناخت ہوگئی ہے۔یہ اطالوی اور مراکشی شہری تھا اور اس کو گذشتہ سال اٹلی میں شام جانے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اطالوی اخبارات نے اس مشتبہ حملہ آور کا نام یوسف زغبہ بتایا ہے۔اس کی عمر بائیس سال تھی۔اس کا باپ مراکشی اور والدہ اطالوی ہے جو بولونا سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے پاس اٹلی اور مراکش دونوں ملکوں کے پاسپورٹ تھے۔

اطالوی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق یوسف زغبہ کو گذشتہ سال بولونا کے ہوائی اڈے پر روکا گیا تھا۔ وہ اس وقت ترکی جانے والے ایک طیارے میں سوار ہوا ہی چاہتا تھا۔ وہاں سے وہ شام جاکر داعش میں شامل ہونا چاہتا تھا۔

پولیس کو اس کے سیل فون سے داعش کی پروپیگنڈا وڈیوز بھی ملی تھیں لیکن تفتیش کے بعد پولیس کو اس کے دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا جس کی بنیاد پر اس کے خلاف کوئی مقدمہ چلا یا جا سکتا ۔ چنانچہ اس کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اٹلی نے برطانیہ اور مراکش کے انٹیلی جنس اداروں کو یوسف کے ممکنہ طور پر ایک جنگجو بننے کے حوالے سے خفیہ اطلاع دے دی تھی۔لندن پولیس نے ابھی تک اس تیسرے مشتبہ حملہ آور کی شناخت کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے اور اس کے ترجمان نے کہا ہے کہ جونہی اس کے نام کے بارے میں معلوم ہوگا تو ا س کو ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے گا۔

برطانوی پولیس نے سوموار کو لندن کے ایک پُل پر ہفتے کی شب دہشت گردی کے واقعے میں ملوث دو حملہ آوروں کی شناخت کا اعلان کیا تھا۔ان میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہے۔اس کا نام خرم شہزاد بٹ بتایا گیا ہے۔دوسرے حملہ آور کا نام رشدہ رضوان تھا۔ وہ مراکشی اور لیبی نژاد تھا۔