.

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کی جنگ میں قطر کا مشکوک کردار

فیصلہ کن طوفان آپریشن کے باوجود قطر انتہا پسندوں کا حامی رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں اور سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کو شکست دینے اور ملک میں آئینی حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لیے قائم کردہ عرب اتحاد میں بہ ظاہر قطر بھی شامل رہا ہے، مگر اس کے باوجود قطر کی ہمدردیاں باغیوں کے ساتھ ہی رہی ہیں۔ اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قطر القاعدہ اور یمن کے حوثیوں کا حامی ومدد گار رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قطر کی خوش دلی سے کبھی بھی یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر سعودی طیاروں کی بمباری کو قبول نہیں کیا۔ اگرچہ دوحہ نے اس جنگ کے لیے اپنے فوجی بھی عالمی اتحاد میں شامل کیے ہیں۔

جب سے عرب اتحاد نے یمن میں ’فیصلہ کن طوفان‘ آپریشن شروع کیا دوحہ شخصیات اور اداروں کی معاونت اور مقامی ثالثوں کی مدد سے یمنی باغیوں کو پناہ دیتا رہا ہے۔

مغربی ممالک کی طرف سے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر القاعدہ کی طرف سے کسی غیرملکی کو یرغمال بنایا گیا تو قطر نے اس کا تاوان ادا کرکے رہا کرایا۔رپورٹس بتاتی ہیں کہ یمن میں بھی القاعدہ نے مقامی اور غیرملکیوں کو تاوان کے لیے اغواء کیا تو دہشت گردوں کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 23 ملین ڈالر کی رقم تاوان میں ادا کی گئی۔ اس رقم کی وافر مقدار قطر کی طرف سے یا اس کے کہنے پر ادا کی گئی۔

یمن میں کئی سرکردہ شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ، سیاسی اور عسکری رہ نماؤں پر حملوں اور دوشت گردوں کی مالی اور لاجسٹک امداد میں بھی دوحہ کا بالواسطہ ہاتھ بتایا جاتا ہے۔