.

قطر کے خلاف اقدامات اس کے اپنے اور خطے کے مفاد میں ہیں : سعودی وزیر خارجہ

خلیجی ریاستیں خود قطر کے ساتھ تنازع کو نمٹا سکتی ہیں،بیرون سے کسی مدد کی ضرورت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور متعدد عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف کیے گئے فیصلے خود اس ملک اور خطے کے مفاد میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خلیجی ریاستیں کسی بیرونی مدد کے بغیر قطر کے ساتھ تنازع کو حل کرسکتی ہیں۔

انھوں نے بدھ کے روز برلن میں اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کہا:’’ ہم نے کسی سے مصالحت کاری کے لیے نہیں کہا۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اس ایشو کو خلیج تعاون کونسل میں شامل ریاستیں خود ہی حل کرسکتی ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے خلیج میں جاری بحران اور قطر کے خلاف ہمارے اقدامات کی وجوہ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم نے جرمنی یا فرانس سے مصالحت کاری کے لیے نہیں کہا ہے‘‘۔ وہ جرمن وزیر خارجہ سے اپنی گفتگو کے بارے میں بتا رہے تھے۔

سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر زوردیا کہ دہشت گردی کو مسترد کردیا گیا ہے خواہ اس کا منبع کوئی بھی ہے یا اس کو کہیں سے بھی مالی مدد مل رہی ہے۔ہم نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب کو دہشت گردی سے نقصان پہنچا ہے اور ہم اس کے خلاف لڑنے والے صف اول کے ممالک میں شامل ہیں‘‘۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں امریکا کی جانب سے قطر نیوز ایجنسی کی مبینہ ہیکنگ کے بارے میں با ضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا ہے۔انھوں نے امریکا کی ایف بی آئی کی تحقیقات کے بارے میں صرف میڈیا ہی میں پڑھا ہے ،اس لیے فی الوقت وہ سرکاری موقف بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ زیگمار گبرئیل نے کہا کہ ’’اس بحران کو ختم کرنے کے لیے ہم ہر قسم کے اقدامات کی حمایت کریں گے‘‘۔

دریں اثناء فرانس نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر کو اپنے معاملات میں شفاف ہونا چاہیے اور اس کو اپنے ہمسایہ ممالک کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔