.

اوباما نے دہشت گردی ایرانی فنڈنگ کی تحقیقات روکی تھیں؟

سابق امریکی صدر کی ایران کے حوالے سے پالیسی پر نیا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر براک اوباما نے دہشت گردی کے لیے ایران کی مالی معاونت سے متعلق رپورٹس کی تحقیقات کرنے والی یونٹس تحلیل کرتے ہوئے دہشت گردی کی ایرانی فنڈنگ کی تحقیقات روک دی تھیں۔

’دی واشنگٹن فری بیکن‘ نامی ایک نیوز ویب پورٹل نے امریکی حکومت کے ایک عہدیدار کے بیان پر مبنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سابق صدر ایران کے جوہری پروگرام پر ہر صورت میں سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایران کی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹیوں کو توڑ دیا تھا۔

رپورٹ میں داعش کے خلاف قائم عالمی اتحاد میں امریکا کے مندوب جنرل جون ایلن کے مشیر ڈیوڈ اشر کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ ہرصورت میں تہران کےساتھ معاہدہ کرنا چاہتی تھی۔ اوباما انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا تودونوں ملکوں کےدرمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوباما نے دہشت گردی کی فنڈنگ کی تحقیقات کرنےوالی کمیٹیوں کو تحلیل کرکے ایران کو ریلیف فراہم کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف ایرانی دہشت گردی کی فنڈنگ کی تحقیقات روکی گئیں بلکہ شام اور وینز ویلا کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کو بھی سردخانے میں ڈالا گیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ ایران کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کے خواہاں تھے تاکہ تہران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کوئی ڈیل طے پاسکے۔ رپورٹ میں امریکی قومی سلامتی کے اداروں پربھی سابق صدر کی پالیسیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عایدکیا گیا ہے۔ صدر اوباما اور اس وقت کی قومی سلامتی کمیٹی نے ستمبر 2015ء کو ایرانی ہیکروں کی جانب سے امریکی اداروں پر کیے گئے سائبر حملوں کو بھی نظر اندازکیا تھا۔