.

اسرائیلی صحافی کی دوحہ میں قطری حکام سے ملاقات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل ذرائع ابلاغ میں ایک اسرائیلی صحافی کی دوحہ میں قطری حکام سے ملاقاتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اب ان اطلاعات کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایک سینیر صحافی انریکہ زیمرمین نے قطری دارالحکومت دوحہ کے آٹھ دورے کیے۔ ان دوروں کے دوران انہوں نے قطرکے حالات پر ایک رپورٹ بھی جاری کی اور عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ میں ایک مضمون بھی لکھا۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ دوحہ میں قطری حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے ان کی میزبانی کی تھی۔

اسرائیلی صحافی نے بتایا کہ قطری عہدیدار کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور اسرائیل دونوں کو ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں چھوٹے چھوٹےملک ہیں مگر دشمنوں اور خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر اور اسرائیل دونوں صحرا تھے جنہیں پھل دار باغات میں تبدیل کیا گیا۔

اسرائیلی صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے قطری عہدیدار سے بات میں دوحہ کے حماس، اخوان المسلمون، النصرہ فرنٹ ، داعش اور ان تنظیموں کے لیے فراخ دلانہ عطیات سے متعلق بات کی۔ انہوں نے داعش اورالنصرہ سے تعلق کی ترید کی تاہم اخوان المسلمون اور حماس کی قیادت کےبارے میں قطری عہدیدار نے کہا کہ وہ سخت نگرانی میں ہیں اور انہیں حکومت کی اجازت کے بغیر اپنی رہائش گاہوں سے باہر جانے کی جازت نہیں۔ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ گھروں ہی میں رہیں اور خواہ مخواہ چلنے پھرنے سے گریز کریں۔

زیمرمین پہلے اسرائیلی نہیں جنہوں نے قطر کا دورہ کیا۔ ایک دوسری خاتون صحافی اورلے ازولائی کاٹز نے بھی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ اُنہوں نے دوحہ کا متعدد بار تفصیلی دورہ کیا۔ اس کے ہمراہ قطری عہدیدار بھی موجود تھے، ان سے تفصیلی بات چیت بھی ہوئی۔ بات چیت میں دوحہ کے خلیجی بائیکاٹ کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔

قطری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خلیجی بائیکاٹ کے نتیجے میں ملک میں کوئی غذائی بحران نہیں۔ تاہم اسرائیلی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قطری بنکوں میں یورو اور ڈالر کرنسی کا بحران موجود ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ پر عام قطری شہری بھی مشوش ہے اور لوگ اس معاملے پر آپس میں باتیں بھی کرتے ہیں۔