.

سعودی عرب میں یوسف القرضاوی کی کتابوں پر پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے قطری حمایت یافتہ عالم دین یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر سعودی عرب میں مکمل طورپر پابندی عاید کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر تعلیم احمد بن محمد العیسیٰ نے ایک عاجلانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ مملکت میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل مصری نژاد مبلغ یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر پابندی ہے اور سعودیہ کے کسی اسکول یا یونیورسٹی میں ان کی کوئی کتاب موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوسف القرضاوی کی تمام کتب اسکولوں اور جامعات کے نصاب سے نکال دی گئی ہیں۔ ان کی کتب کی سعودی عرب میں طباعت و اشاعت پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے تاکہ ان میں بیان کردہ حساس موضوعات میں سعودی طلباء وطالبات کو الجھا کر دہشت گردی کی راہ پر چلنے سے روکا جاسکے۔

سعودی وزارت تعلیم نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو 8 جولائی کو ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوسف القرضاوی کی کتب کو نصاب سے نکالیں اور لائبریریوں میں موجود ان کی کتب کو وہاں سے ہٹایا جائے۔

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے یوسف القرضاوی کی کتب پر پابندی ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہے جب مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دہشت گردی میں ملوث 59 شخصیات اور 12اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں شامل تمام شخصیات اور اداروں کو قطری حکومت کی سرپرستی اور مالی تعاون حاصل ہے۔

وزارت تعلیم کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مصری نژاد یوسف عبداللہ القرضاوی کا نام دہشت گردی کی معاون شخصیات میں شامل ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ مملکت میں فرقہ وارنہ مواد، گمراہ کن نظریات کی ترویج اورانتہا پسندانہ افکار پر مبنی لٹریچر کی طباعت واشاعت پر سختی سے پابندی عاید کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں متنازع نوعیت کا لٹریچر لانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔