.

سنگاپور میں داعش سے تعلق کے شبے میں خاتون گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنگاپو پولیس نے ملک میں شدت پسند گروپ ’داعش‘ سے تعلق کے شبے میں ایک خاتون کو حراست میں لیا ہے۔ سنگاپور میں داعش سے تعلق کے شبے میں کسی خاتون کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے سنگاپور میں بچوں کی بہبود کے ایک مرکز میں ملازمت کرنے والی خاتون کو حراست میں لیا ہے۔

خطے میں داعش کے اثرات کے پھیلنے کے خدشات کے جلو میں سنگاپور میں کسی خاتون کی گرفتاری کا یہ پہلا موقع ہے۔ سنگاپور اور اس کے پڑوسی ملکوں کے انٹیلی جنس حکام شدت پسندوں کی آمد ورفت روکنے کے لیے باہمی تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سنگاپور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک گذشتہ برس دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے۔ حکومت نے شہریوں کو دہشت گردوں سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق داعش سے تعلق کے شبے میں حراست میں لی گئی لڑکی کی شناخت الشیخہ عزۃ زھرہ الانصاری کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر بائیس سال ہے۔ اسے رواں ماہ کے دوران شام میں داعش میں شمولیت کے لیے سفر کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عزۃ الانصاری نے 2013ء میں شدت پسندانہ طرز زندگی اپنایا۔ وہ سنگاپور میں بچوں کی بہبود کے ایک مرکز میں ملازمہ ہے مگر داعش سے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے متعارف ہوئی اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر موجود اپنے صفحات پر داعش کی حمایت میں لٹریچر بھی شائع کرتی رہی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں سے شادی کی غرض سے شام جانا چاہتی تھی۔ خیال رہے کہ گذشتہ برس سنگاپور کی پولیس نے داعش سے مبینہ تعلق کے شبے میں تین افراد حراست میں لیے تھے تاہم وہ تینوں مرد تھے۔