.

القاعدہ کے سابق مفتی کا قطر کے ساتھ اظہارِ یک جہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کے سابق مفتی محفوظ ولد الوالد عُرف "ابو حفص الموريتانی" نے عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ اختلافات میں قطر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ابو حفص نے اپنی ٹویٹ میں سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

ابو حفص نے اس بائیکاٹ کو "ظالمانہ محاصرہ" قرار دیتے ہوئے موریتانیہ کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے فیصلے پر عمل درامد نہ کرے۔ موریتانیہ کی حکومت نے بائیکاٹ کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر عرب ممالک میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور انارکی پھیلانے میں ملوث ہے۔

موریتانیہ ان عرب ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

ابو حفص الموریتانی کا اسامہ بن لادن سے تعارف سوڈان میں ہوا۔ القاعدہ سے منسلک ہونے کے بعد وہ تنظیم کے سابق سربراہ کے انتہائی قریب ہو گیا۔ اس نے تربیتی کیمپوں میں بطور استاد کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے القاعدہ تنظیم کا مشیر، اس کی شرعی کمیٹی کا سربراہ اور تنظیم کا مفتی بھی رہا۔ الموریتانی کا کہنا ہے کہ اس نے ان حملوں کی مخالفت کی تھی۔

افغانستان پر امریکی حملے کے دوران ابو حفص تنظیم کے رہ نماؤں کے ساتھ فرار ہو کر ایران پہنچ گیا جن میں القاعدہ کی مجلس شوری کے ارکان بھی شامل تھے۔ اس نے تہران میں 10 برس گزارے۔

موریتانی شدت پسند کے مطابق ایرانیوں نے اس کے ساتھ "اچھا معاملہ" کیا۔

ایران نے 2012 میں ابو حفص کو موریتانیہ کے حوالے کر دیا۔ امریکا اور موریتانیہ کے انٹیلی جنس اداروں نے ابو حفص کے ساتھ کئی روز تک پوچھ گچھ کی جس کے بعد اسے رہائی اور ملک کے جنوب میں اپنے آبائی علاقے واپس لوٹ جانے کی اجازت مل گئی۔

دارالحکومت نواکشوط میں سکونت اور مکمل آزادی مل جانے کے بعد سے ابو حفص نے خاموشی توڑ دی۔ اب اس نے "خصوصی مہمان" کی حیثیت اختیار کر لی ہے جو مستقل صورت میں قطر کے ٹی وی چینلوں پر خبروں اور پروگراموں میں بات چیت کرتا نظر آتا ہے۔

مئی 2011ء میں ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے خطوط میں القاعدہ کے سابق سربراہ نے اپنی دولت کا 1% حصہ ابو حفص الموریتانی کے لیے مختص کرنے کی وصیت کی تھی۔