.

ایران باب المندب میں جہاز رانی کے لیے خطرات پیدا کرنے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے امور کے لیے مختص مرکز American Thinker نے خبردار کیا ہے کہ ایران یمن میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کی سپورٹ کے ذریعے بحرِ احمر میں اپنا رسوخ بڑھا رہا ہے۔

امریکی مرکز کے مطابق ایران حوثی ملیشیاؤں کو استعمال کر کے آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ مرکز نے اس حوالے سے تجارتی بحری جہازوں پر پاسداران انقلاب اور حوثی ملیشیاؤں کے حملوں اور آبی گزرگاہ میں سمندری بارودی سرنگوں کی تنصیب کی جانب اشارہ کیا۔

مرکز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران یمن میں جاری جنگ میں یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کے مزید عناصر کو جھونکنے کے لیے کوشاں ہے تا کہ پورے ملک پر قبضے اور پڑوسی ممالک کے لیے خطرے کو یقینی بنایا جا سکے۔

مرکز کے مطابق ایران اور اس کے حوثی ایجنٹ اقوام متحدہ کی جانب سے سامنے آنے والی امدادی پکاروں کو نظر انداز کر رہے ہیں جس کا مقصد یمن کا منظر نامہ پیچیدہ بنانا اور بحران کو طول دینا ہے۔

مرکز نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر ایران کی ان کوششوں کی جانب اشارہ کیا جو وہ دہشت گرد جاعتوں کی سپورٹ کے ذریعے خلیجی ممالک کو غیر مستحکم کرنے اور حکم راں نظاموں کو تبدیل کرنے کے واسطے کر رہا ہے۔