.

تہران،دمشق، بغداد اور بیروت ’ہلال ایران‘ کی گذرگاہ

التنف میں امریکا اور ایران میں لڑائی چھڑنے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں ایران کی مجرمانہ مداخلت اور توسیع پسندانہ عزائم اب کسی سے مخفی نہیں رہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ’فیلق القدس‘ ملیشیا اور اس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ’ہلال ایران‘ کو شام \، عراق اور لبنان سمیت دوسرے عرب ممالک تک پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں۔

حال ہی میں شام اور عراق کے درمیان سرحدی علاقوں اسد نواز ملیشیا کا تسلط اس وقت قائم ہوا جب جنر قاسم سلیمانی اور دوسرے جنگجوؤں نے عراقی ملیشیا اور شامی فوج کی مدد کی۔ یوں ایران عراق اور شام کی سرحد تک ہلال ایران کو پہنچانے میں کامیاب رہا۔

’ہلال ایران‘ کے نظریے کو عملی طورپر دوسرے ممالک تک پھیلانے اور پہنچانے کے حوالے سے ایرانی حکومت کے سینیر عہدیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایرانی عمال حکومت بار بار یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ تہران بحیرہ روم کے ساحل تک اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔

حال ہی میں ایرانی خبر رساں اداروں نے بدنام زمانہ جنرل قاسم سلیمانی کی تازہ تصاویر شائع کیں۔ ان تصاویر میں انہیں افغان جنگجوؤں پر مشتمل ’فاطمیون‘ ملیشیا کے عناصر کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے۔ فاطمیون ملیشیا شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع میں لڑنے والے ان جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو ایران کی جانب سے شام میں اسد رجیم کے دفاع کے لیے قائم کی گئی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ فاطمیون ملیشیا اور شام نواز دوسری جنگجو تنظیموں نے اسدی فوج کے ساتھ مل کر عراق اور شام کی سرحد پر واقع التنف کے مقام کاکنٹرول سنبھال لیا ہے۔ التنف ایک سرحدی علاقہ ہے جو متعدد دیہات پرمشتمل ہے۔ شام کی سرحد کےاندر اس کے ایک طرف امریکی فوج نے اپنی چوکیاں قائم کر رکھی ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ انتہائی اہمیت کا حامل مقام ہے کیونکہ یہ اردن، شام اور عراق کے سنگم پر واقع ہے۔

التنف کی پیچیدہ صورت حال

شام اور عراق کے سرحدی علاقے التنف پراسد نوازملیشیا کے کنٹرول کے سیاق میں ایران کی ’فارس‘ خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ شائع کی جس میں التنف کی صورت حال کو کافی پیچیدہ قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ التنف کی صورت حال سیاسی اور عسکری دونوں اعتبار سے کافی حساس اور پیچیدہ ہے کیونکہ اسد نوازملیشیا کے زیرکنٹرول علاقے سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر امریکی فوج متمرکز ہے۔

ایرانی خبررساں اداروں نے عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے شام کے اندر داخل ہونے کی اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ الحشد الشعبی شام اور عراق کی سرحد تک محدود ہے اور وہ کے اندر داخل نہیں ہوئی۔ فی الحال اس وقت کی توجہ عراق کے اندر داعش کی سرکوبی ہے اور وہ عراق کے اندر ہی لڑ رہی ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران سرکار بحیرہ روم کے ساحل تک پہنچنے کے اپنے پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ایران کی پیش قدمی ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب شام میں امریکی فوج اور اسد نواز ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں۔ التنف کا علاقہ ان جھڑپوں کا مرکز ہے جہاں پر گذشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی فوج تین بار اسد نواز ملیشیا کی پیش قدمی روکنے کے لیےان پر حملے کرچکی ہے۔

التنف ایران اور امریکا کے درمیان نیا محاذ جنگ

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران شام، عراق اور اردن کے سرحدی علاقے التنف میں امریکی فوج اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤ کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد خدشہ ہے کہ یہ علاقہ کسی بھی وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا اکھاڑا بن سکتا ہے۔

جریدہ ’ایٹلانٹک‘ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’التنف‘ امریکی فوج اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے درمیان نیا محاذ جنگ بن سکتا ہے۔ امریکا کی جانب سے اس علاقے میں موجود اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کو الشعیرات کے فوجی اڈے کی طرح بدترین حملے کا بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے التنف میں قائم کردہ فوجی مرکز میں شامی اپوزیشن کی جیش الحر کو عسکری تربیت دینے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس مرکز میں امریکا کے 150 ٹرینر موجود موجود ہیں جو جیش الحر کو داعش کے خلاف لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں۔ شام اور ایرانی حمایت یافتہ شدت پسند گروپ شام اور عراق کے درمیان واقع اس اہم ترین سرحدی بری گذرگاہ پر ہرصورت میں قبضہ کرنا چاہتے اور قبضے کی لڑائی کسی وقت شدت اختیار کرسکتی ہے۔

ملیشیائیں التنف کیسے پہنچیں؟

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ‘مشرق‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تہران سے دمشق، بیروت خشکی کا راستہ شام اور عراق کی سرحد پر واقع التنف گذرگاہ پر قبضے سے مکمل ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ عراق میں جنوب مغربی الانبار کی یہ واحد سرحد گذرگاہ ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپ اس گذرگاہ سے محض 43 کلو میٹر کی مسافت پرہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کے حمایت یافتہ عسکری گروپوں نے نہایت راز داری اور خاموشی کے ساتھ التنف کی جانب پیش قدمی کی۔ انہوں نے گذشتہ جمعہ کو ذرائع ابلاغ سے چھپ کر حمص گورنری کے مشرقی علاقے الصوانہ سے التنف کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ ایرانی حمایت یافتہ جنگجو ایک طرف التنف کی طرف بڑھ رہے اور دوسری جانب مشرقی حلب، الرقہ، مشرقی حمص اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھی اسدی نواز فورسز اور اپوزیشن کی نمائندہ تنظیموں میں لڑائی جاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق دیر الزور کے مقام پر اپوزیشن کی پسپائی نے اسدی فوج اور اس کی حامی فورسز کو التنف کی طرف پیش قدمی کا موقع فراہم کیا۔ اسدی فورسز نے خفیہ طریقے سے الفیاض، جبل الغراب، الناروت، الحماد، خبرۃ زقف او الجودہ جیسے دیہاتوں کے راستے سے پیش قدمی کی۔

ادھر دوسری جانب عراق کے اندر سے ایرانی حمایت یافتہ الحشد الشعبی نے مغربی انبار کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے شامی فوج اور ایرانی ملیشیاؤں سے ملنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ عراق شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی شام کی سرحد سے کوئی ایک سو کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

’مشرق‘ نیوز ایجنسی نے ایرانی ملیشیا کی الولید گذرگاہ کی طرف پیش قدمی کو خارج از امکان قرار دیا ہے کیونکہ اس کے جنوب میں حمص گورنری کے علاقے مغاویر، الثورۃ اورمشرقی اسود شامی امریکا اور برطانیہ کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن فورسز کے پاس ہیں۔

بحیرہ روم تک رسائی کے لیے خشکی کا راستہ

ایران نے چند ماہ قبل انکشاف کیا تھا کہ وہ شام کے ساحلی علاقے میں ایک فوجی اڈہ قائم کر رہا ہے۔ یہ فوجی اڈا ایران کی تزویراتی گذرگاہ جو عراق اور مشرقی شام کے علاقوں بالخصوص حلب، حمص اور الاذقیہ بندرگاہ سے ملاتے ہوئے ایران کی بحیرہ روم تک رسائی کی راہ ہموار کرے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے گذشتہ برس نومبر میں کہا تھا کہ ان کا ملک شام اور یمن کے ساحلی علاقوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بحری بیڑوں کو دور درواز اڈوں کی اشد ضرورت ہے اور یہ فوجی اڈے اسی مقصد کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں۔

ایران پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی 31 اکتوبر 2016ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی سرحدیں بحر احمر سے مشرقی بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی ہیں۔