.

دوحہ کے خلاف کوئی عسکری اقدام نہیں ہے: اماراتی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کے مطابق عرب ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا کوئی عسکری پہلو نہیں ہے۔ منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف العتیبہ نے کہا "ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کا قطعا کوئی عسکری پہلو موجود نہیں"۔

العتیبہ نے مزید بتایا کہ "میں نے گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی وزیر دفاع جنرل میٹس کے ساتھ 4 مرتبہ ملاقات کی۔ اس دوران مکمل یقین دہانی کرائی گئی کہ ہماری جانب سے کیے اقدامات کسی طور بھی العدید کے فضائی اڈے یا اس سے متعلق کسی بھی معاملے پر اثر انداز نہیں ہوں گے"۔

قطر کے خلاف مزید اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ "ہم نے 59 شخصیات اور 12 اداروں اور تنظیموں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ آگے آپ کالعدم فہرستوں میں ان کے بینک اکاؤنٹس کا اندراج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جب تک پالیسی میں تبدیلی سامنے نہیں آتی تو ایسی صورت میں ایک مرتبہ پھر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا"۔

العتیبہ نے بتایا کہ چاروں ممالک قطر کے لیے مطالبات کی فہرست تیار کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ تمام ممالک کے مطالبات کو ایک ہی فرست میں اکٹھا کر دیا جائے اور یہ فہرست بہت جلد امریکا کے حوالے کی جائے گی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے گزشتہ ہفتے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر کے اُس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔