.

کسی مسلمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے نہیں روکا: گورنر مکّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم حرمین شریفین کے مشیر اور مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے باور کرایا ہے کہ مملکت سعودی عرب نے کسی مسلمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے اور وہاں عبادات سے نہیں روکا، بلکہ مملکت اس ارض مقدس کا رخ کرنے والوں کو تمام خدمات اور سہولیات پیش کرنے کی آرزو رکھتی ہے۔

انہوں نے یہ بات مسجد حرام میں سکیورٹی اہل کاروں اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت سے متعلق اداروں کے ملازمین کے ساتھ افطار میں شرکت کے بعد کہی۔ شہزادہ خالد نے مزید کہا کہ "میں اس مقدس مقام پر معتمرین، نمازیوں اور طواف وسعی کرنے والوں کے لیے خدمات پیش کرنے والے ہر فرد کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں"۔

مکہ کے گورنر نے زور دیا کہ "ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کو سراہنا چاہیے"۔ انہوں نے مسجد حرام اور اس کے زائرین کی حفاظت پر مامور سکیورٹی فورسز اور حرم مکی کے انتظامی امور کو سنبھالنے والی امور حرمین کی جنرل پریذیڈنسی کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔

شہزادہ خالد الفیصل کے مطابق ماہ رمضان کے دوران ہر فرض نماز کے وقت مسجد حرام اور اس کے اطراف میں 25 لاکھ افراد کے قریب موجود ہوتے ہیں۔ ان کی پورے اطمینان و سکون کے ساتھ موجودگی کی پہلی اور سب سے بڑی وجہ اللہ رب العزت کا فضل ہے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز ، متعلقہ ادارے اور نوجوان رضاکار اللہ کے مہمانوں کو خدمت پیش کرنے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔

مکہ مکرمہ کے گورنر نے افطار سے قبل اُن بعض سکیورٹی منصوبوں اور تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جن پر ماہِ رمضان میں عمل درامد ہو رہا ہے۔

افطار کے موقع پر مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ عبداللہ بن بندر، شاہی خاندان کی کئی شخصیات اور علماء کرام و مشایخ عظام بھی موجود تھے۔