.

’قطر کی مہربانی سے‘ یمنی حوثی بار بار بچ نکلتے رہے!

دوحہ کو سعودی عرب کے خلاف ایرانی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف نبرد آزما ایران نواز حوثی باغیوں کو نہ صرف ایرانی رجیم اور خطے کی بعض دوسری قوتوں کا دامے درمے سخنے تعاون حاصل رہا بلکہ انہیں صعدہ کی چھ جنگوں کے دوران ختم ہونے سے بچائے رکھنے میں قطر کا بھی اہم کردار بتایا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماضی میں یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں بالخصوص صعدہ کی چھ مشہور جنگوں کے دوران قریب تھا کہ حوثی اپنا وجود کھوہ بیٹھتے مگر ایران کے اشارے پر سابق امیر قطر درمیان میں کود پڑے اور انہوں نے حکومت اور باغیوں کے درمیان صلح صفائی کی کوششیں شروع کردیں۔ یہ کوششیں باغیوں اور حکومت کے درمیان مفاہمت کے لیے کم اور باغیوں کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے زیادہ تھیں۔ جب سنہ 2006ء میں حوثی گروپ کے بانی لیڈر حسین بدرالدین الحوثی کو قتل کردیا گیا تو حوثی تنظیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تھی۔ لیڈر کے قتل کے بعد یہ گروپ ختم ہونے کے قریب تھا مگر اس وقت کے امیرقطر نے دخل درمعقولات کے ذریعے حوثیوں کو ختم ہونے سے بچا لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صعدہ گورنری کے شمال میں مطرہ پہاڑی علاقے میں حوثی باغیوں کا آخری ٹھکانہ باقی رہ گیا تھا جب قطر کی ثالثی کے نتیجے میں یمنی فوج اور حوثیوں کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا۔ موجودہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی بھی اس وقت مطرۃ ہی کے مقام پر روپوش تھا جب کہ اس کا والد بدرالدین الحوثی اور چچا عبدالکریم الحوثی عارضی طور پر دوحہ میں مقیم تھے۔ قطر نے باغیوں اور فوج کےدرمیان نہ صرف سمجھوتہ کرایا بلکہ باغیوں کو مالی مدد بھی فراہم کی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے منصوبے بھی شروع کیے تھے۔

یمنی فوج کا کہنا ہے کہ اگر سنہ 2006ء اور اس سے قبل صعدہ کے علاقے میں لڑی جانے والی جنگوں کےدوران قطر حوثیوں کو بچانے کے لیے ثالثی نہ کرتا تو آج ان کا کوئی وجود نہ ہوتا۔

فوج اس وقت کے سابق صدر علی عبد اللہ صالح جو اب حوثیوں کے ساتھ مل کر آئینی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں پربھی الزام عاید کرتی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی صالح قطر کی ترغیبات میں آگئے اور دوحہ کی جانب سے بھاری مالی امداد کی پیش کش کے بدلے میں انہوں نے باغیوں سے صلح کرلی۔

یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق امیر قطر کی جانب سے حوثی باغیوں اور اس وقت کی حکومت کے درمیان مصالحت کا معاملہ ابھی تک پردہ راز میں ہے اور اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں مگر اس معاہدے کو ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کہ باغیوں نے خود کو منظم کرکے اس معاہدے کی دھجیاں اڑا دی تھیں۔

جب ایک سال بعد سنہ 2007ء کو باغیوں نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا تو قطر نے دوبارہ صنعاء پر دباؤ ڈال کر ایک بار پھر حکومت اور حوثیوں کے درمیان معاہدہ کرادیا۔ مئی 2007ء کو امیر قطر ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم لے کر یمن پہنچے۔ یہ رقم علی صالح کو دینے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک بار پھر حوثیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے پر مجبور کیا تھا۔

یوں قطر ایک طرف تو یمن میں لڑائی روکنے کی کوشش کررہا تھا مگر دوسری جانب یمنی باغیوں کو بچا کر دوحہ ایران کے آلہ کار کے طور پر سعودی عرب کے خلاف سرگرم عمل تھا کیونکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کا ہدف صرف یمن نہیں بلکہ سعودی عرب بھی تھا۔

سنہ 2008ء میں یمن کے حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان پانچویں جنگ شروع ہوئی۔ اس وقت حکومت کو یہ احساس ہوا تھا کہ پچھلی جنگوں میں حوثیوں کو چھوڑ دینے کے نتیجے میں یہ فتنہ بار بار سر اٹھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمنی پارلیمنٹ کے سابق رکن محمد بن ناجی الشایف نے کھلے الفاظ میں الزام عاید کیا کہ حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور قطر ایران کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر ایران کے ایک پیغام رساں کے طور سرگرم عمل ہے۔

قطر کی جانب سے حوثی باغیوں کی مالی اور مادی امداد کے نتیجے میں باغی دوبارہ مضبوط ہوگئے۔ پہاڑی غاروں میں چھپنے والوں نے بار بار معاہدے کیے اور طاقت پکڑتے ہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

یمنی باغیوں اور فوج کے درمیان چھٹی جنگ سنہ 2009ء میں چھڑی۔ اس جنگ میں سعودی عرب نے اپنی فوج اور اسلحہ کی مدد سے یمنی فوج کی مدد کی۔ مگر آخرکار یہ جنگ بھی 21 جون 2010ء کو قطر کی ثالثی کے نتیجے میں ختم ہوگئی اور حوثی باغیوں کو کچلنے کا ایک اور موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور یمن کے اردن میں موجودہ سفیر علی العمرانی نے قطر پر یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں اور حوثیوں کی مالی اور عسکری مدد کا الزام عاید کیا۔ یہ محض الزام نہیں تھا بلکہ قطر حقیقی معنوں میں ہربار مشکل میں گھرے حوثیوں کو ثالثی میں پڑ کر بچالیتا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ منظم ہونے کے لیے ایران اور قطر سمیت دوسری قوتوں کی طرف سے باغیوں کو وافر خوراک مل جاتی تھی۔