.

امریکی بحریہ کا ایرانی جہاز پر آبنائے ہرمز میں خطرناک حرکت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی بحریہ نے ایرانی بحریہ کے ایک جہاز پر ’’ غیر محفوظ‘‘ اور’’ غیر پیشہ ورانہ ‘‘ ٹاکرے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بحری جہاز سے امریکی بحری جہازوں کے ساتھ پرواز کرنے والے میرین کور کے ایک ہیلی کاپٹر کی جانب لیزر روشنی سے اشارے کیے گئے ہیں۔

یہ واقعہ 13 جون کو آبنائے ہرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا تھا اور اس وقت امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس باٹان ،یو ایس ایس کول اور ایک اور امریکی جہاز پر مشتمل بحری بیڑا وہاں سے گذر رہا تھا۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ترجمان کمانڈر بل اربن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ایرانی جہاز امریکی جہازوں کے متوازی چل رہا تھا اور اس نے یو ایس ایس کول کی جانب لیزر سے اشارہ کیا تھا‘‘۔

’’اس کے فوری بعد ایرانی جہاز نے اس بیڑے کے ساتھ جانے والے شینوک 53 ای ہیلی کاپٹر کی جانب بھی لیزر روشنی ماری تھی۔پھر اس نے باٹان پر روشنی سے اشارہ کیا تھا اور اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا گیا تھا۔اس کے بعد یہ جہاز وہاں سے دور ہٹ گیا تھا‘‘۔ ترجمان نے مزید بتایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ٹاکرے کے دوران میں ایرانی جہاز باٹان سے 800 گز فاصلےسے بھی نزدیک آگیا تھا۔امریکی بحری افواج کی کمان کا کہنا ہے کہ لیزر کی وجہ سے یہ ٹاکرا غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ تھا۔

ترجمان اربن کا کہنا تھا کہ ’’ رات کے وقت لیزر سے ہیلی کاپٹروں کی جانب روشنی چھوڑنے کا عمل بہت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ہوابازوں کا دیکھنے کا عمل متاثر ہوسکتا ہے اور وہ پرواز کے دوران میں سمت کھو سکتے ہیں‘‘۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس آبی راستوں میں ایران کے اس طرح کے رویّے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرچکا ہے ۔دنیا میں تیل کی آمدورفت کے لیے یہ سب سے اہم آبی گذرگاہ ہے اور مشرق وسطیٰ سے زیادہ تر تیل یہیں سے گذر کر مغرب کی جانب جاتا ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جولائی 2015ء میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے باوجود ایران کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔