.

جاسوسی کے الزام میں ترک رکن پارلیمنٹ کو 25 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک عدالت نے اپوزیشن کی بڑی جماعت ’پیپلز ری پبلیکن‘ سے وابستہ ایک رکن پارلیمان کو جاسوسی کے جرم میں پچیس سال قید کی سزا سناتے ہوئے انہیں فوری طور پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

ترک اخبار ’جمہوریت‘ کے مطابق انیس بربر اوگلو کو سنہ 2014ء کے دوران سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں دیکھا گیا تھا جس میں وہ ترک انٹیلی جنس اداروں کے اسلحہ سے لدے ٹرک شام میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔

اس واقع پر صدر طیب ایردوآن بھی سخت برہم ہوئے تھے اور انہوں نے جمہوریت اخبار کے اس وقت کے چیف ایڈیٹر جان ڈونڈار کو دھمکی دی تھی کہ انہیں متنازع ویڈیو ریلیز کرنے کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق انیس بربر کل بدھ کو رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت نے انہیں 25 سال قید کی سزا دینے کے ساتھ فوری طور پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

جولائی 2016ء کو ترک حکومت کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد کردوں کے حامی 12 ترک ارکان پارلیمان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

تاہم جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتا ترک کی قائم کردہ سیکولر جماعت پیپلز ری پبلیکن سے وابستہ کسی سیاست دان کو پہلی بار پچیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔