.

قطر مسئلے کی جڑ پر توجہ مرکوز نہیں کررہا ہے: اماراتی وزیر خارجہ

قطر کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور مالی امداد اصل مسئلہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ قطر کے ساتھ جاری سفارتی بحران میں اصل مسئلے کے حل پر توجہ مرکوز نہیں کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قطر نے اپنی سفارتی اور میڈیا مہم کے باوجود مسئلے کی جڑ کو ختم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور یہ دوحہ کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت ہے۔انھوں نے اپنی یہ بات دہرائی ہے کہ قطر کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور مالی معاونت ہی اصل ایشو ہے۔

سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے قطر پر خطے میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا ہے اور 5 جون کو اس کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ جمعہ کو قطر سے تعلق رکھنے والے 59افراد اور 12گروپوں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔

خلیجی عرب ممالک کے قطر کے ساتھ جاری سفارتی بحران کے حل کے لیے مختلف ممالک اپنے طور پر کوششیں کررہے ہیں۔فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے مراکش کی قیادت کے ساتھ رباط میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ، لیبیا میں جاری بحران اور قطر اور اس کے خلیجی عرب ہمسایوں کے درمیان تنازع سمیت مختلف امور پر بات چیت کی ہے۔

بعد میں فرانسیسی صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ شاہِ مراکش نے اس تنازع کے مختلف فریقوں سے بات چیت کی ہے اور میں نے خود بھی خطے سے تعلق رکھنے والے لیڈروں سے ملاقات کی ہے اور آیندہ ہفتے پیرس میں متحدہ عرب امارات کے رہ نماؤں سے ملاقات کروں گا‘‘۔

فرانسیسی ایوان صدر نے پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ صدر ماکروں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے مراکش میں الگ الگ ملاقات کریں گے لیکن بعد میں کہا تھا کہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

دریں اثناء العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے یہ اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا آیندہ سوموار کو اجلاس ہوگا اور اس میں عرب ریاستوں اور قطر کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔