قطرسیاسی فیصلے کے ذریعے سفارتی بحران کوحل کرسکتا ہے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ قطر کے بحران کا کسی سیاسی فیصلے کے ذریعے ہی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور یہ فیصلہ قطر ہی کو کرنا ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت سے باز آجائے، دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز مہموں سے بھی دستبردار ہو جائے۔

انھوں نے یہ باتیں العربیہ نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔ان سے یہ انٹرویو العربیہ کی لندن میں نمائندہ ریما مکتبی نے لیا ہے۔اس میں سعودی وزیر خارجہ نے قطر کے ساتھ عرب ممالک کے سفارتی تنازع اور اس کے حل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔

عادل الجبیر نے کہا کہ اگر دوحہ بحران کے حل کے لیے سیاسی فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے اور خطے کے ان تمام ممالک کے بہترین مفاد میں ہوگا جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قطر نے 2014ء میں جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا وعدہ کیا تھا،ان کی پاسداری نہیں کی ہے۔عادل الجبیر نے بتایا کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک مطالبات کی ایک فہرست تیار کررہے ہیں جو اس تمام معاملے کو سلجھانے کے لیے قطر کو پیش کی جائے گی۔

سعودی وزیر خارجہ نے دہشت گردوں کی فہرست پر نظرثانی پر زوردیا اور کہا کہ اس میں ان افراد اور تنظیموں کے نام بھی شامل کیے جائیں جن کی قطر حمایت کرتا ہے۔ان میں سے بعض کے نام اقوام متحدہ کی فہرست اور بعض کے امریکا کی عالمی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا قطر کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت پر ہمارے خطے کی تشویش کو سمجھتی ہے۔قطری بحران سے متعلق برطانیہ کے موقف کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ لندن دوحہ کی حمایت نہیں کررہا ہے۔برطانیہ کو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا رہا ہے اور وہ متعدد مرتبہ دوحہ کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

انھوں نے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن سے جمعہ کو اپنی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ یہ تعمیری رہی ہے اور اس میں دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلقات ، قطری بحران ،یمن ، لیبیا ،شام اور عراق کی صورت حال اور مشرق وسطیٰ امن مذاکرات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے قطر پر خطے میں دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عاید کررہے ہیں اور انھوں نے 5 جون کو اس کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ان چاروں ممالک نے گذشتہ جمعہ کو قطر سے تعلق رکھنے والے 59افراد اور 12گروپوں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان کی ایک فہرست جاری کی تھی۔سعودی وزیر خارجہ نے ان ہی کے نام امریکا اور اقوام متحدہ کی فہرستوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں