قطر نے جیبوتی اور اریٹیریا کو آپس میں الجھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطرکے باعث دو افریقی ممالک اریٹیریا اور جیبوتی کی آپس میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں افریقی پڑوسی ملوں میں ایک سرحدی علاقے پرجاری تنازع میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب قطر نےدونوں ملکوں کےدرمیان متنازع سمجھے جانے والے علاقے میں تعینات اپنی امن فوج وہاں سے واپس بلا لی۔

جیبوتی نے الزام عاید کیا ہے کہ اریٹیریا نے اس کے علاقے پرقبضہ کررکھا ہے۔ یہ الزام حال ہی میں اس وقت سامنے آیا جب دوحہ نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع پر ثالثی کے لیے تعینات اپنی امن فوج واپس بلا لی تھی۔ دوحہ کی جانب سے فوج واپس بلانے کا اقدام اس وقت کیا گیا جب جیبوتی نے قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام کے بعد دوحہ میں اپنا سفارتی مشن محدود کردیا تھا۔

اقوام متحدہ میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قطردہشت گردی کی حمایت کرکے قطر خود بھی عالمی سفارتی آداب اوراصولوں کےخلاف ورزی کررہاہے۔ وہ دو ملکوں کے درمیان ثالثی کی مساعی کیسے کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں افریقی ملکوں کے درمیان متنازع علاقے پرتعینات قطری فوج کو اس وقت واپس بلالیا گیا تھا جب جیبوتی نے خلیجی ملکوں کی حمایت کرتے ہوئے قطر سے اپنے سفارتی تعلقات محدود کردیے تھے۔ جیبوتی نے اریٹیریا پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے جبل دمیرہ اور جزیرہ دمیرہ پر غیرقانونی طورپرقبضہ جما رکھا ہے۔ جیبوتی کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں علاقے اس کی ملکیت ہیں۔ اریٹیریا بھی ان علاقوں پراپنی ملکیت کا حق جتلاتا ہے۔

قطرنے دونوں ملکوں کےدرمیان تنازع کےحل کے لیے 2011ء میں اس وقت امن کوششیں شروع کی تھیں جب دونوں ملک مسلح تصادم کے قریب پہنچ گئے تھے۔ قطر نے متنازع علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے ساڑھے چار سو فوجی تعینات کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں