مسلم علماء کی عالمی یونین کو کیسے سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

علامہ یوسف القرضاوی نے سنہ 2004ء میں دوحہ میں مسلم علماء کی عالمی یونین (الاتحاد العالمی العلماء المسلمین) قائم کی تھی۔اس کا مقصد سنی، شیعہ اور عبادی مسلم علماء کو اکٹھے کرنا تھا لیکن بہت جلد اس یونین کو اخوان المسلمون ایسی اسلامی جماعتوں کی آبیاری کے لیے ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے حال ہی میں قطر میں مقیم مصری نژاد عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ان پر انتہا پسند گروپوں کی حمایت اور خود کش بم دھماکوں کی حوصلہ افزائی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ان کی قائم کردہ موتمر مسلم علماء نے اپنے مقاصد میں یہ کہا تھا کہ وہ ایک شہری تنظیم کے طور پر کام کرے گی اور اس کے صدر کے مطابق اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لیکن بعد میں اس کے عہدہ داروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اساسی مقاصد سے دور ہٹ گئے تھے اور یونین کا میزبان ملک قطر اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا تھا۔

یونین نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں متعدد خلیجی اور عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات توڑنے کی مذمت کی گئی ہے اور بائیکاٹ کو مقاطعہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یونین نے علامہ قرضاوی ، علی السلابی ،صادق الغریانی اور دوسروں کے نام قطر سے وابستہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے نام کسی شہادت یا ثبوت کے بغیراس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ اس یونین نے اپنے دستوری فریم ورک سے ہٹ کر بیانات جاری کیے ہیں۔چند ماہ قبل بھی اس نے ترکی میں دستوری ترامیم کے حق میں ایک بیان جاری کیا تھا۔ان ترامیم کے تحت صدر رجب طیب ایردوآن کو مزید اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اس یونین کی مالی معاونت کرتے ہیں اور اس کے دوحہ میں صدر دفاتر ہیں۔یونین گذشتہ تیرہ سال کے دوران میں ایسے سیاسی نوعیت کے بنیاد جاری کرتی رہی ہے جس سے مسلم ممالک میں اتحاد کے بجائے سیاسی اختلافات کی خلیج گہری ہوئی تھی اور کسی ایک گروپ کی طرف داری کی وجہ سے اس کی غیر جانبداری بھی متاثر ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں