.

ایرانی توسیع پسندی پر ترک صدر نے بھی صدائے احتجاج بلند کر دی

ایردوآن نے انٹرویو میں ’فارسی توسیع پسندی‘ کی اصطلاح کا پہلی بار استعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پہلی بار ایرانی توسیع پسندی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ایران کو اپنی حد میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدرکا کہنا تھا کہ ایران کی توسیع پسند پالیسیاں بالخصوص شام اور عراق میں تہران کی کھلم کھلا مداخلت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے غالبا پہلی بار’فارسی توسیع پسندی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایرانی رجیم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

گذشتہ روز پرتگالی ٹی وی RTP پر نشر ایک انٹرویو میں صدر ایردوآن نے استفسار کیا کہ ’کیا شام ایرانی توسیع پسندی کا نیا اکھاڑا بن چکا ہے؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا اور کہا ہاں صرف شام ہی نہیں بلکہ عراق بھی ایرانی توسیع پسندی کا ہدف ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ایرانی سرگرمیاں فارسی توسیع پسندی کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ یہ کشمکش محض مذہبی یا نسلی نہیں۔ میں یہ بات زور دیکر کہتا ہوں کہ ایران کی اس نوعیت کی توسیع پسندی کسی صورت میں قبول نہیں۔ تاہم ترک صدر نے ساتھ ساتھ شام اور عراق کے بحران کے حل کے لیے ایرانی کردار کا اعتراف بھی کیا۔

طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے ملک کو شام اور عراق میں ایران کی بے مداخلت پر اعتراضات ہیں تاہم ترکی ایران اور روس کے ساتھ مل کر عراق اور شام کے بحرانوں کو حل کر سکتا ہے۔

انہوں نے امریکا، برطانیہ اور سعودی عرب پر شام میں قیام امن کے لیے مشترکہ مساعی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں شام میں جنگ بندی کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔