ماسکو پر پابندیاں: پوتین نے واشنگٹن کو خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی صدر ولادیمر پوتین نے اپنے ملک پر امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کیے جانے سے خبردار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

روسی میڈیا کے مطابق پوتین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کے جواب کے حوالے سے بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔

امریکی سینیٹ نے گزشتہ ہفتے متقفہ طور پر ماسکو پر نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قانونی بِل کی تائید کر دی تھی۔

سرکاری ٹیلی وژن "رَشیا 1" کے ساتھ گفتگو میں پوتین نے واضح کیا کہ اگر نئی پابندیاں عائد کی گئیں تو ان کو موقف میں تبدیلی کے حوالے سے دیکھنا ہو گا۔

روس اور مغربی ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کا تبادلہ 2014ء سے دیکھنے میں آیا جب ماسکو نے یوکرین کے جزیرہ نما قرم کو اپنی ریاست میں شامل کر کے مشرقی یوکرین میں علاحدگی پسندوں کو سپورٹ پیش کرنا شروع کر دی۔

مغربی ممالک کی جانب سے اقتصادی اور مالی پابندیوں کے نتیجے میں روسی کرنسی روبل اور ملک کی معیشت کو دھچکا پہنچایا جو برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ ماسکو نے جواب میں غذائی مواد کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہونے سے روسی شہریوں کو بھی نقصان پہنچا۔

امریکی قانون ساز ارکان کی جانب سے روس کو سزا دینے کا خیال درحقیقت 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ماسکو کی مبینہ مداخلت اور شام میں جاری خانہ جنگی میں بشار حکومت کے لیے روسی سپورٹ کا ردِّ عمل ہے۔

اس سے قبل ولادیمر پوتین یہ باور کرا چکے ہیں کہ روس پر نئی پابندیاں امریکا کے اندر داخلی سیاسی تنازع کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ اس طرح کا انداز اپنا کر روس کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں