.

’’حوثیوں کو ایران سے کروز میزائل فراہمی آبنائے باب المندب کے لئے خطرہ ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈانفورڈ نے کہا ہے کہ ایران اب بھی حوثی ملیشیا کو کروز میزائل فراہم کر رہا ہے تاکہ باب المندب پر اپنا کنڑول برقرار رکھتے ہوئے علاقے میں سمندری نقل وحرکت کو خطرات سے دوچار کرتا رہے۔

العربیہ نیوز چینل پر نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی اعلی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب گذرگاہ میں آزادانہ بحری نقل وحرکت امریکا کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ ایران کی جانب سے باغی حوثیوں کو کروز میزائل سمیت جدید ہتھیاروں کی فراہمی متذکرہ گذرگاہوں کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی تجارت کے لیے خطرہ ہے۔ نیز امریکا ان دونوں آبناوں کو بین الاقوامی سمندری ٹریفک کے لئے کھلا رکھوانے کا پابند ہے۔

مبصرین کے مطابق باب المندب اور یمن کے علاقے خلیج عدن میں امدادی سامان لانے والے بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر یکے بعد دیگرے کئے جانے والے حملے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یمن کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے باغی خطے کے استحکام کو نقصان اور اس حساس علاقے میں تجارتی اور سمندری ٹریفک کو گزند پہنچانا چاہتے ہیں۔

یاد رہے باغی ملیشیا بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی سمندری ٹریفک کے لئے خطرہ ہیں کیونکہ حال ہی میں انہوں نے المخا بندرگارہ سے انسانی بنیادوں امدادی سامان اتار کر واپس جانے والے متحدہ عرب امارات کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔