.

قطر کی تنہائی کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تنازع کے نتیجے میں قطر کی تنہائی کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔

انھوں نے پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم صورت حال کو زیادہ سنگین نہیں بنانا چاہتے ہیں بلکہ ہم اس (قطر) کو تنہائی کا شکار کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ دوحہ ابھی تک حالت انکار اور غصے میں ہے۔قطر سے عرب ممالک کو درپیش شکایات کی ایک فہرست آیندہ دنوں میں تیار کرلی جائے گی ‘‘۔

انھوں نے اپنی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ’’ قطر کی سرگرمیوں کے جائزے کے لیے مغرب کا نگرانی کا نظام ہونا چاہیے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ قطر کے دہشت گردی سے متعلق کردار میں تبدیلی آ چکی ہے‘‘۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’ ترکی ابھی تک قطری بحران میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کررہا ہے اور توقع ہے کہ انقرہ دانش کا مظاہرہ کرے گا اور اس بات کا ادراک کرے گا کہ اس کا مفاد دوحہ کے خلاف اقدامات کی حمایت سے وابستہ ہے‘‘۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اس کے خلیجی عرب اتحادیوں نے 5 جون کو قطر کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس پر خطے میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا ۔سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 9 جون کو قطر سے تعلق رکھنے والے 59افراد اور 12گروپوں اور تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔