.

سعودی عرب اورعراق میں انتہا پسندی اوردہشت گردی کےاستیصال کے لیے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اورعراق نے انتہا پسندی سے نمٹنے، دہشت گردی اور اس کی تمام شکلوں سے جنگ اور دہشت گردی کے مالی ذرائع کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں میں تیزی لانے سے اتفاق کیا ہے۔

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے درمیان الریاض میں منگل کے روز ملاقات میں یہ اتفاق رائے ہوا ہے۔انھوں نے نے دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان مذہب ، بھائی چارے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’ انھوں نے طرفین کے درمیان پائے جانے والے تعمیری رویے ، موجودہ سیاسی صورت حال ،عرب اور اسلامی اقوام کو درپیش سکیورٹی کے چیلنجز سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے‘‘۔

دونوں رہ نماؤں نے انتہا پسندی سے نمٹنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور دونوں ملکوں کی جانب سے دہشت گرد جنگجوؤں اور خاص طور پر داعش کے خلاف کامیاب کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دونوں رہ نماؤں نے اپنے ملکوں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضرررساں ہر قسم کے اقدامات اور کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

سعودی عرب اور عراق نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مطلوبہ تزویراتی سطح تک لانے کے لیے ایک رابطہ کونسل کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے سیاست ، سکیورٹی ، معیشت ، ترکی ،تجارت ،سرمایہ کاری ، سیاحت اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے امکانات کا جائزہ لینے اور دونوں ملکوں کے نجی شعبوں میں شراکت داری کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا ہے۔