.

شانزے لیزے کا حملہ آور، تیونسی نژاد فرانسیسی "شدت پسند"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز بتایا ہے کہ پیر کے روز دارالحکومت پیرس میں شاہراہِ شانزے لیزے پر واقع ایوان صدر کے قریب پولیس کی گاڑی سے اپنی گاڑی ٹکرانے والا مشتبہ دہشت گرد تیونسی نژاد فرانسیسی شہری ہے جس کا نام آدم لطفی الجزیری ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق 31 سالہ الجزیری شدت پسندی کے شبہے میں فرانسیسی سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں رہا ہے۔ ایک سکیورٹی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ الجزیری ایک "سخت گیر" خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

الجزیری پیرس میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ کا تعلق تیونس سے اور ماں کا پولینڈ سے ہے۔

تحقیقات کے دوران الجزیری کے والد نے بتایا کہ "اس کے بیٹے کے پاس ہتھیار رکھنے کا پرمٹ ہے اور وہ شُوٹنگ کی تربیت حاصل کر رہا تھا"۔

فرانسیسی پولیس نے الجزیری کو اس کی گاڑی کے اندر ہی ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد گاڑی سے گیس کی بوتلیں ، پستولیں اور کلاشنکوف برآمد ہوئی۔

منگل کے روز سکیورٹی ذرائع نے اعلان کیا کہ الجزیری کے گھر سے "ہتھیاروں کا ذخیرہ" ملا ہے۔

فرانسیسی پولیس نے پیرس کے جنوب میں 30 کلومیٹر پر واقع ٹاؤن میں الجزیری کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کے خاندان کے 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان میں الجزیری کی سابقہ بیوی، الجزیری کا بھائی اور بھابھی کے علاوہ الجزیری کا باپ بھی شامل ہے۔

الجزیری کو اس سے قبل کبھی مجرم نہیں ٹھہرایا گیا تاہم وہ ایک شدت پسند گروپ سے تعلق رکھنے کے نتیجے میں 2015ء سے سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ شمار کیے جانے والے افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

پیر کی دوپہر شاہراہ شانزے لیزے پر حملے کی اس کوشش کی ذمے داری کسی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ یہ واقعہ 20 اپریل کو اسی علاقے میں ایک شدت پسند کی گولی سے فرانسیسی پولیس اہل کار کی ہلاکت کے تقریبا دو ماہ بعد پیش آیا ہے۔ بعد ازاں اس شدت پسند کو سکیورٹی فورسز نے مار ڈالا تھا۔

فرانس کو جنوری 2015 سے دہشت گرد حملوں کی لہر کا سامنا ہے جس میں 239 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کارروائیوں میں خاص طور پر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔