.

خامنہ ای کی العبادی سے ملاقات.. کردستان میں ریفرنڈم کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے عراقی کردستان میں آئندہ ستمبر میں مقررہ ریفرنڈم کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ خامنہ ای کا یہ موقف منگل کی شام عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق خامنہ ای نے العبادی کو باور کرایا کہ ان کا ملک عراق میں اس ریفرنڈم کے حق میں نہیں اور اس کے واسطے کوشش کرنے والوں کو عراق کی خود مختاری اور وحدت کے مخالفین میں شمار کرتا ہے۔ اُن کا اشارہ کرد جماعتوں اور شخصیات کی جانب تھا جن میں عراقی کرستان کے صدر مسعود البارزانی سر فہرست ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی بھی یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک اس ریفرنڈم کا شدید مخالف ہے۔ انہوں نے ریفرنڈم کو کُردوں کی جانب سے یک طرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں عراق میں سکیورٹی کی صورت حال مزید ابتر ہو جائے گی۔

اس سے قبل ایران نے کردستان کے شہر کرکوک میں سرکاری عمارتوں پر عراق کے سرکاری پرچم کے ساتھ کرُد پرچم کے لہرائے جانے کے عمل کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ کُرد پرچم کے لہرائے جانے سے عراق میں اور اس کے بیرون وسیع پیمانے پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک کرد مسئلے کا اجاگر کیا جانا خواہ وہ عراق ، ترکی یا پھر شام میں ہو.. اس کے اثرات خود ایران میں کُردوں کے معاملے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ جہاں ایران کئی دہائیوں سے ستّر لاکھ کُردوں کی آواز کچل کر اس قومیت کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے۔ ان حقوق میں انتظامیہ میں کُرد وردی اور کُرد شہروں میں مادری زبان کی تعلیم شامل ہیں۔

عراقی کردستان کے صدر مسعود البارزانی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کرستان کی انتظامیہ پچیس ستمبر کو ایک ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ریفرنڈم میں کرکوک ، خانقین اور سنجار جیسے اُن علاقوں اور شہروں کو بھی شامل کیا جائے گا جن کے حوالے سے بغداد میں مرکزی حکومت کے ساتھ تنازع چل رہا ہے۔