.

افغانستان : جنوبی صوبہ ہلمند میں کار بم دھماکا ،34 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں جمعرات کے روز خودکش کار بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عمر ژواک نے بتایا ہے کہ خودکش بم حملے میں پولیس اہلکاروں ، فوجیوں اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے چونتیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے ۔اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

شہر میں پولیس کے ترجمان سلام افغان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دوپہر بارہ بجے کے قریب نیو کابل بنک کے داخلی دروازے پر بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا یا گیا ہے۔اس وقت بنک کے باہر عام شہری اور سرکاری ملازمین اپنی تن خواہیں وصول کرنے کے قطاروں میں کھڑے تھے۔

بعض عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے کانوں کے پردے پھٹ گئے۔بم دھماکے کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے اور فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں۔ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں ہلمند میں طالبان مزاحمت کاروں اور افغان فورسز کے درمیان خونریز جھڑپوں ہوتی رہی ہیں۔اس وقت بھی اس صوبے کے اسّی فی صد دیہی علاقے پر طالبان ہی کا کنٹرول ہے۔وہ صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ پر کنٹرول کے لیے ماضی میں متعدد مرتبہ ناکام حملے کرچکے ہیں۔