.

قطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے: نیویارک ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ خلیجی ریاست قطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار لکھتا ہے کہ "قطر کے پاس دو راستے ہیں جن پر اس کا سب سے بڑھ کر انحصار ہے۔ ایک تو قطر مختلف ایشوز کے حل کے لیے سفارتی میدان میں اپنے قد بت سے بڑھ کر کوششیں کرنا چاہتا ہے اور دوسرا اپنی دولت کے بل بوتے پر ایسے ایجنڈے پر کام کررہا ہے جو پڑوسی برادرملکوں کے مفادات کے خلاف ہے۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران قطر نے اپنی سفارتی کوششوں اور بھاری رقوم کے ذریعے اپنے حجم سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوششیں کی۔ آج قطر ان کوششوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق پڑوسی عرب ممالک کے مفادات کے بر خلاف چلتے ہوئے قطر نے اپنی مغربی سمت میں واقع طاقت اور دولت مند مملکت سعودی عرب کی رواداری کو بھی مذاق سمجھا۔ حالانکہ سعودی عرب کی جانب سے قطری پالیسیوں پر برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی تھی۔ جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو سعودی عرب کو قطر کے خلاف آواز اٹھانا پڑی۔

جب قطری ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنا موقف تبدیل کیا تاکہ ایران اور اخوان المسلمون کے بڑھتے عزائم کو روکنے کےساتھ ساتھ انہیں بتایا جائے کہ وہ سعودی عرب کے خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں۔

امریکی اخبار کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امارات نے قطر کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں، تاہم خطے میں کسی جنگ کا کوئی امکان موجود نہیں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے قطر کے بارے میں خدشات نئے نہیں۔ قطر نے ایک طرف ثالث کا کردار ادا کر کے علاقائی ممالک کی پالیسیوں کو نقصان پہنچایا جہاں ثالثی سے مسئلہ حل نہ ہوا وہاں رقوم خرچ کی گئیں۔ خطے میں فلسطینی اختلافات کے حل کی شکل میں یمنی حکومت اور ایران نواز حوثیوں کے درمیان مذاکرات، سوڈان جنگ اور کئی دوسرے ایشوز پر دوحہ نے سفارتی میدان میں خوب گھوڑے دوڑائے۔ بہت کم ایسا کوئی ہفتہ گذرا ہوگا جس میں سعودی عرب کی مخالف قوتوں کا دوحہ کی میزبانی میں کوئی نا کوئی اجلاس نہ ہوا ہو۔