انقرہ: اماراتی ،سعودی اور بحرینی سفیروں کا ترک حکام سے قطر بحران پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے انقرہ میں متعیّن سفیروں نے ترک وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی ہے اور ان سے قطر کے بارے میں خلیجی ریاستوں کے موقف پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تینوں سفیروں نے قطر سے تعلقات توڑنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملکوں نے اس خلیجی ریاست کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے پیش نظر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قطر سے جو معاملہ کیا جارہا ہے،یہ بائیکاٹ ہے ، ناکا بندی نہیں ہے اور یہ ان تینوں ممالک کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے خواہش پر مبنی ہے۔

دریں اثناء کویت نے سعودی عرب ،بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے مطالبات کی ایک فہرست قطر کے حوالے کردی ہے اور اس سے دس روز میں اس کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق مطالبات کی اس فہرست میں قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے۔ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔قطر میں ترکی کے ایک فوجی اڈے کا قیام روک دے اور نیٹو کے اس ملک کے ساتھ ہرقسم کا فوجی تعاون بھی ختم کردے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں