قطر خلیجی ریاستوں کے مطالبات کو افشاء کرنے کے بجائے پورا کرے : اماراتی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ قطر نے خلیجی ریاستوں کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کی فہرست کو پورا کرنے کے بجائے میڈیا کے لیے جاری کردیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت کی مصالحت کی کوششوں کا کوئی احترام نہیں کیا جارہا ہے۔انھوں نے قطر کی جانب سے مطالبات کے افشاء کو غیر ذمے دارانہ حرکت قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قطر ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

کویت نے حال ہی میں سعودی عرب ،بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے مطالبات کی ایک فہرست قطر کے حوالے کردی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق مطالبات کی اس فہرست میں قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے۔ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔قطر میں ترکی کے ایک فوجی اڈے کا قیام روک دے اور نیٹو کے اس ملک کے ساتھ ہرقسم کا فوجی تعاون بھی ختم کردے۔رائیٹر ز کی رپورٹ کے مطابق ان ممالک نے دوحہ کو ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ الجزیرہ ایک ایسا چینل ہے جو خطے میں انتہا پسند گروپوں کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے قطر کو دہشت گردی کی حمایت سے روکنے کی بہت کوشش کی ہے ۔ہم اس کی جانب سے حالیہ برسوں کے دوران میں جو کچھ قبول کرتے رہے ہیں،اس کو مزید قبول نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق قطر سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے اور جن شخصیات کے نام دہشت گردوں یا ناپسندیدہ افراد کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہیں،ان کو اپنے ہاں پناہ دینے سے باز آجائے۔

سعودی عرب ،مصر ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسی ماہ کے اوائل میں قطر سے تعلق رکھنے والے 59 افراد اور 12 اداروں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ان چاروں ممالک نے 5 جون کو قطر سے سفارتی ،معاشی اور سیاسی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس پر انتہا پسند اسلامی جنگجو گروپوں اور ایران کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا جبکہ قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں