.

قطر میں بحرینیوں کو شہریت دینے کا عمل خلیج تنازع کا ایک سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں خلیجی اور بالخصوص بحرینی شہریوں کو بسانے اور قومیت دینے کا معاملہ دوحہ اور خلیج تعاون کونسل کے بعض رکن ممالک کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم نکتہ بن کر سامنے آیا ہے اور قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے اس پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بہت سے بحرینی خاندانوں کی مستقل سکونت کے لیے قطر منتقلی سے متعلق العربیہ سمیت بعض میڈیا ذرائع نے 2014ء میں خبریں دینا شروع کی تھیں اور وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے والے بیشتر افراد سنی العقیدہ تھے۔

اس وقت خلیجی امارت کی جانب سے بحرین کے بارے میں اس پالیسی کو غیر دوستانہ قرار دیا گیا تھا۔اسی سال خلیجی ریاستوں نے دوحہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا اور بحرین نے قطر پر بعض بظاہر خطرناک وجوہ کی بنا پر بحرینیوں کو شہریت دینے کا الزام عاید کیا تھا۔

قطر کے منفی کردار کے مزید ثبوت

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے تب ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس معاملے کی تفصیلی وضاحت کی تھی کہ بحرینی شہریوں کو دوحہ کے ساتھ خاندانی تعلقات کی بنیاد پر قطر کی قومیت کا جھانسا دیا گیا تھا۔انھوں نے قطر پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ بحرین کے سنی شہریوں کو فرقہ وار بنیاد پر قومیت دے رہا تھا اور اہل تشیع کو نہیں۔تجزیہ کاروں کے بہ قول اس طرح بحرین کے آبادی کے ڈھانچے کو جان بوجھ کر اتھل پتھل کیا جارہا تھا۔

سنہ 2014ء میں سفارتی بحران کا جب خاتمہ ہوا تھا تو خلیجی ممالک نے دوحہ سے بحرینی شہریوں کو قطری شہریت دینے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بحرین کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تھا اور اس کی جانب سے قطر پر الزامات کا سلسلہ جاری رہا تھا ۔اس نے قطر پر انتہا پسند گروپوں کی حمایت کا بھی الزام عاید کیا تھااور کہا تھا کہ وہ بحرینی رجیم کا دھڑن تختہ کرنا چاہتا ہے۔