.

قطر بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے مطالبات کی فہرست کا جائزہ لے رہا ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کہا ہے کہ قطر نے بعض عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کی فہرست کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ بحران کے حل کے لیے اہم شعبوں میں مذاکرات کے آغاز کے لیے بنیادی کام ہوا ہے۔ تمام متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں اور تندو تیز لب ولہجے میں نرمی لائیں تاکہ کشیدگی کے خاتمے میں مدد مل سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ ہر ملک کے لیے آیندہ تعمیری قدم یہ ہوگا کہ وہ سب مل بیٹھیں اور اس بات چیت کو جاری رکھیں۔ہمیں یقین ہے کہ اگر ہمارے اتحادی اور شراکت دار مل جل کر صرف ایک مقصد کے لیے کام کریں گے تو مزید مضبوط ہوں گے اور وہ ایک مقصد یہ ہے کہ وہ سب مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کریں‘‘۔

سعودی عرب ،مصر ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے تیرہ نکاتی مطالبات کی فہرست کویت کے ذریعے قطر کو بھیجی ہے۔اس میں قطر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت پر مبنی اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کا خاتمہ کردے اور انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے گذشتہ روز کہا تھا کہ قطر نے خلیجی ریاستوں کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کی فہرست کو پورا کرنے کے بجائے میڈیا کے لیے جاری کردیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کویت کی مصالحت کی کوششوں کا کوئی احترام نہیں کیا جارہا ہے۔انھوں نے قطر کی جانب سے مطالبات کے افشاء کو غیر ذمے دارانہ حرکت قرار دیا اور کہا کہ قطر ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

کویت نے حال ہی میں سعودی عرب ،بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے مطالبات کی ایک فہرست قطر کے حوالے کی ہے۔ اس فہرست میں قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے۔ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔قطر میں ترکی کے ایک فوجی اڈے کا قیام روک دے اور نیٹو کے اس ملک کے ساتھ ہرقسم کا فوجی تعاون بھی ختم کردے۔خلیجی عرب ممالک نے دوحہ کو ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ الجزیرہ ایک ایسا چینل ہے جو خطے میں انتہا پسند گروپوں کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے قطر کو دہشت گردی کی حمایت سے روکنے کی بہت کوشش کی ہے ۔ہم اس کی جانب سے حالیہ برسوں کے دوران میں جو کچھ قبول کرتے رہے ہیں،اس کو مزید قبول نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔