.

قطر میں فٹ بال عالمی کپ کا انجام بد سے بدتر کی طرف: برطانوی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں جامعہ سیلفورڈ میں کھیلوں کے منصوبوں کے استاد سائمن شیڈوک کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے سیاسی تعلقات منقطع کیے جانے کے سبب قطر میں 2022ء کے فٹ بال عالمی کپ میں تماشائیوں کی حاضری پر بڑے پیمانے پر اثر پڑے گا جب کہ سفر کے بھاری اخراجات بھی لوگوں کو دوحہ کا سفر کرنے سے روکیں گے۔

برطانوی اخبارi (آئی) کی جانب سے شائع رپورٹ میں چار ممالک کی جانب سے سیاسی تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد قطر کے عالمی کپ کی میزبانی کے امکانات اور گزشتہ ہفتے جوزف بلاٹر کے اس بیان کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ قطر نے میزبانی کے لیے ووٹ کس طرح حاصل کیے۔

بلاٹر نے ایک اخباری بیان میں سارکوزی اور پلاٹینی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے میزبانی کا پلڑا قطر کے حق میں پلٹ دیا۔

اخبار کے مطابق قطر کو 2022ء کے عالمی کپ کے منصوبوں پر عمل درامد کے لیے مواد کے حصول میں بڑی مشکلات کا سامنا ہو گا اس لیے کہ وہ مطلوبہ مواد پڑوسی ممالک سے درامد کرتا ہے۔ عالمی کپ کے میدانوں پر کام اب بھی سست روی کا شکار ہے۔ ابھی تک چند میدانوں میں کام مکمل ہوا ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مزدوروں کو طویل دورانیے کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے پاسپورٹ چھین لیے گئے ہیں اور انہیں نامناسب مقامات پر رہائش دی گئی ہے۔ ان میں بعض کام کرنے والے حادثات کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے جن میں آخری واقعہ ایک برطانوی ورکر کی موت کا تھا۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ قطر اور اس کی سرزمین پر عالمی کپ کے انعقاد کا امکان مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ کسی کو کیا معلوم کہ ہوسکتا ہے فیفا حالیہ اصلاحات کے منصوبے کے ضمن میں قطر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے حرکت میں آ جائے۔