.

مقبوضہ کشمیر: اسکول میں بھارتی فورسز اور مزاحمت کاروں میں جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظا م ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت سری نگر کے نواح میں واقع ایک اسکول میں مسلح جنگجوؤں اور بھارتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپ جاری ہے۔مسلح مزاحمت کاروں نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کردی تھی جس سےایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

مزاحمت کاروں نے اس کے بعد ایک اسکول میں پناہ لے لی تھی او ر ہفتے کی شام بھارتی فوجیوں نے اس کا محاصرہ کر لیا تھا جبکہ جنگجوؤں نے ان کی جانب فائرنگ شروع کردی تھی۔

ریاست مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے انسپکٹر جنرل منیر احمد خان نے کہا ہے کہ فوجیوں نے اسکول کی عمارت کا محاصرہ کررکھا ہے ۔مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ایک ایک کمرا اور منزل بہ منزل عمارت کی مکمل تلاشی لی جارہی ہے۔اس کے کلیئر ہونے میں وقت لگے گا۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کے محاصرے کے بعد مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں وہاں اکٹھے ہوگئے تھے اور انھوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔اس کے بعد بھارتی فورسز نے سری نگر سے ریاست کے جنوب کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کو بند کردیا اور اسکول کی عمارت سے پانچ مربع کلومیٹر کے علاقے میں عام لوگوں کے داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔

اسکول میں یہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مقبوضہ وادی میں عید الفطر کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔حالیہ مہینوں کے دوران میں بھارتی فورسز اور کشمیری مجاہدین کے درمیان متعددخونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو ایک مسجد کے باہر ایک مشتعل ہجوم نے ایک پولیس افسر کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا۔اس سے ایک ہفتہ پہلے مسلح مزاحمت کاروں نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کرکے چھے افسروں کو ہلاک کردیا تھا۔