.

چین میں کتا خوری کا بدنام زمانہ میلہ جاری

حیوانات کے لیے سرگرم کارکنوں کا ہزاروں کتوں کی جانیں بچانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کے عجیب وغریب میلوں ٹھیلوں میں چین میں ہرسال کتے کھانے کا میلہ بھی کم حیرت انگیز نہیں۔ مگر اس بار کتے کھانے والوں کو حیوانات کے حقوق کے لئے کام کرنے والی رضار تنظیموں سے سخت مقابلہ ہے۔ حیوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے ہونے والے ’یولین کتا خوری میلہ‘ کے موقع پرذبح کرنے کے لیے لائے گئے ہزاروں کتوں کی جان بچائی ہے۔

خیال رہے کہ ’یولین‘ چین کا ایک شہر ہے جس میں ہرسال کتوں کے گوشت کھانے کا مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میلے میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ہرسال میلے کے دوران ہزاروں کتوں کو ہلاک کیا جاتا۔

بین الاقوامی انسانی حقوق آرگنائزیشن نے گذشتہ منگل کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس نے کتوں سے بھرا ایک کنٹینر پکڑا ہے جسے یولین شہر میں ذبح خانے کی جانب لے جایا جا رہا تھا۔

انسانی حقوق اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ’ھسی‘ نے بتایا کہ کتوں سے لدا ٹرک جنوبی شہر قانسو سے لایا گیا تھا۔ یہ ٹرک 1948 کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد قوانگشو کے مقام پر پکڑا گیا۔ اس میں لوگوں کے گھروں میں رکھے پالتو کتے چوری کرنے کے بعد لادے گئے تھے۔

بھوک، پیاس اور حبس بے جا کی بنا پر کتے نڈھال تھے جن میں سے تیس کتے پہلے مرچکے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹرک ڈرائیور نے جعلی دستاویزات دکھا کر جان چھڑانے کی کوشش کی مگر پولیس نے اسے حراست میں لے لیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹرک ڈرائیور اتنی بڑی تعداد میں کتوں کو خریدنے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرسکا ہے۔

پابندی کے باوجود کتوں کا ’قتل عام‘ جاری

انسانی حقوق اور حیوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے احتجاج کے باجود ’یولین‘ میلہ جاری و ساری ہے جس میں اب تک سیکڑوں کتوں کو کاٹ کران کا گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس بدنام زمانہ میلے پر پابندی کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ یہ میلہ کتوں کے غیرقانونی گوشت کی خریدو فروخت کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

اس میلے میں سرعام کتوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت پکایا اور اسے کھایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے موسم گرما کی تبدیلی کے میلے کے طور پر مناتے ہیں۔

گذشتہ مئی میں چینی حکام نے کتوں کا گوشت فروخت کرنے پر سختی سے پابندی عاید کی تھی تاہم اس پابندی کے باوجود کتا خوری میلہ جاری ہے۔ مقامی عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایک روایتی میلہ ہے، اس لیےاسے لڑنا مناسب نہیں۔