.

اولڈ موصل کی الفاروق کالونی داعش کے چنگل سے آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے سوموار کے روز مغربی موصل میں داعش کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کی حامل الفاروق کالونی کا کنٹرول بھی سنھبال لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی فورسز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے سوموار کے روز شمال مغربی موصل میں واقع الفاروق کالونی داعش کے چنگل سے آزاد کر لی۔

خیال رہے کہ الفارق کالونی تاریخی جامع مسجد النوری کے قریب واقع ہے۔ جامع مسجد النوری کو داعش کے دہشت گرد ایک ہفتہ قبل دھماکوں سے شہید کر چکے ہیں تاہم مسجد کی جگہ ابھی تک داعش ہی کے قبضے میں ہے۔

قبل ازیں عراق کی سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم ‘داعش‘ نے دھوکہ دے کر موصل کے باہر سے عراقی فوج پر عقب سے حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی جسے ناکام بنا دیا تھا۔

عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے مغربی موصل کے پرانے شہر کے دو تہائی حصے کو ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد داعش سے آزاد کرالیا ہے۔

داعش کے ہاتھوں شہید ہونے والی تاریخی جامع مسجد النوری کے کبڑے مینار کے ملبے کے قریب سے بات کرتے ہوئے عراقی فورسز کے اہلکار کیپٹن سلام العبیدی نے بتایا کہ وہ تاریخی مسجد کے شہید مینار سے پچاس میٹر کی دوری پر ہے۔

عراق انسداد دہشت گردی فورس کے عہدیدار نے بتایا کہ پرانے موصل کا 65 سے 70 فی صد علاقہ داعش سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ اب صرف ایک مربع کلومیٹر کا رقبہ داعش کے دہشت گردوں کے پاس ہے جہاں سیکڑوں کی تعداد میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

تباہ شدہ مینار کے کھنڈرات

عراق کے شہر موصل کے مغربی حصے میں داخل ہونے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر شہر کا قدیم حصہ شروع ہو جاتا ہے۔ اولڈ موصل کی دیگر تاریخی علامتوں میں جامع مسجد النوری اور اس کا ٹیڑھا مینار نہ صرف موصل بلکہ پورے عراق میں مشہور ہیں۔ یہ مینار بارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا اور اسے آجسے چار روز قبل نام نہاد دولت اسلامی ’داعش‘ نے بارود سے اڑا کر کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔

جامع مسجد النوری داعش اور اس کی خود ساختہ خلافت کے لیے بھی علامتی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی تھی۔ جولائی 2014ءکو عراق اور شام کے وسیع علاقے پر اپنی خلافت کے قیام کے بعد داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے اسی مسجد سے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع پرانا موصل شہر تقریبا تین مربع کلومیٹر کےعلاقے پر محیط ہے۔ گنجان آباد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ تنگ گلیوں اور پیچیدہ راستوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ جنگ کے نتیجے میں اس کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔