.

ایرانی صدر کا امیر قطر کو فون، بائیکاٹ غیرموثربنانے کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو یقین دلایا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ملکوں کی طرف سے دوحہ کا بائیکاٹ کرنے کے منفی اثرات کم کرنے میں قطر کی مدد کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر حسن روحانی نے امیر قطر کوٹیلیفون کیا اور انہیں عید الفطر کی مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر صدر روحانی نے سعودی عرب کی قیادت میں دیگر عرب ملکوں کی جانب سے قطر کے سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کے بائیکاٹ کو غیر موثر بنانے کے لیے تہران دوحہ کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔

ایرانی صدر نے قطر کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دوحہ کو ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی سزا دی گئی۔ قطر کا بائیکاٹ خود عرب ملکوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر روحانی نے امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو یقین دہانی کرائی کہ تہران دوحہ کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران قطری حکومت اور قوم کے ساتھ ہے۔ ’ہم عرب ملکوں کی طرف سے قطر پر پابندیاں مسلط کرنے کو مسائل کےحل کے لیے انتہائی غیر مناسب سمجھتے ہیں۔ دھمکیاں اور پابندیاں باہمی اختلافات کا حل نہیں ہوسکتیں‘۔

حسن روحانی نے کہا کہ قطر اور ایران کے مقاصد مشترک ہیں اور دونوں ملک مشترکہ مفادت اور اہداف پر کام کررہے ہیں۔ ایران کی فضائی، بری اور بحری حدود پڑوسی مسلمان ملک قطر کے لیے ہمیشہ کھلی رہیں گی۔

خیال رہے کہ پانچ جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے دوحہ سے سفارتی تعلقات توڑ لیے لیے تھے۔ حال ہی میں بائیکاٹ کرنے والے ملکوں نے تعلقات کی بحالی کی ایک لسٹ قطرکے سامنے پیش کی ہے جس میں دیگر مطالبات میں ایران سے تعلقات محدود کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر ایران کی طرف سے کہا گیاہے کہ وہ قطر کے معاشی بائیکاٹ کو غیرموثر بنانے کے لیے دوحہ کو خوراک کی سپلائی جاری رکھے گا۔ تہران کی جانب سے قطرکو یومیہ 11 ہزار ٹن سبزیاں اورپھل مہیا کیے جا رہے ہیں۔