.

ایران میں 28 لاکھ افراد نشے کے عادی: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں نشے کی لعنت کے عادی ہونے والے افراد کی تعداد میں گذشتہ چھ برسوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت قریبا 28 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق محکمہ انسداد منشیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 8 کروڑ کی آبادی والے ملک[ایران] میں 28 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں۔

ایرانی وزارت صحت اور محکمہ انسداد منشیات سے وابستہ ایک فلاحی ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق چھ سال قبل ایران میں نشے کےعادی افراد کی تعداد 13 لاکھ تھی۔ چھ سال میں اس میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نشے کے عادی افراد میں 66.8 فی صد افیوں، 11.9 فی صد ماریگوانا اور 8.1 فی صد میتھ امفیٹامن نامی منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔

ایران میں منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافے کے یہ اعداد شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران پر الزام عاید کیا گیاہے کہ وہ افغانستان سے مشرق وسطیٰ اور یورپ تک منشیات کی اسملنگ کا محفوظ روٹ بن چکا ہے۔

سنہ 2001ء میں امریکی فوج کے ہاتھوں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افیون کی کاشت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا۔

جون 2017ء کو اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان میں 20 لاکھ ایک ہزار ایکڑ رقبے پر سالانہ 4800 ٹن افیون کاشت کی جاتی ہے جب کہ سنہ 2001ء میں طالبان کے دور میں افیون کی کاشت سالانہ 200 ٹن سے کم تھی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں منشیات استعمال کرنے اور اس کا دھندہ کرنےوالوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ پڑوسی ملک افغانستان میں افیون کی کاشت میں اضافہ بھی ہے۔ افغانستان سے منشیات انتہائی کم قیمت پر ایرانی مارکیٹ تک پہنچائی جاتی ہیں جہاں سے انہیں مشرق وسطیٰ اور یورپی ملکوں کو اسمگل کیا جاتا ہے۔بیس مارچ کے بعد ایرانی پولیس نے 200 ٹن منشیات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔