.

بائیکاٹ کے باعث قطر کی مائع گیس پر اجارہ داری خطرے میں پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کویہ گھمنڈ تھا کہ وہ دنیا بھرمیں طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ’ہیلیم گیس‘ کا سب دوسرا بڑا برآمد کندہ ہے، مگر سعودی عرب سمیت چار عرب ملکوں کے چند روزہ بائیکاٹ نے دوحہ کے دنیا کے دوسرے بڑے گیس فیلڈ کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق عرب ملکوں کی طرف سے سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کے بعد امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی کمپنی ’ایکسن موبیل آئل‘ کے چیف ایگزیکٹو ڈیرین ووڈز کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔

خبر رساں دارے‘رائٹرز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایکسن کے سربراہ اور امیر قطر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں چار عرب ملکوں کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد دوحہ کو توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب طبی مقاصد کے لیے قطر کی طرف سے فراہم کی جانے والی ’ہیلیم‘ گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے قطر کی بری، فضائی اور بحری گذرگاہوں کی بندش نے دنیا کو ہیلیم گیس سپلائی کرنے والے دوسرے بڑے درآمد کندہ کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔

قطر اپنی غیر متوازن پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں چار بڑے عرب ملکوں نے قطر کا بائیکاٹ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ پڑوسی ملکوں کے تعاون کے بغیر دوحہ کی معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔ قطری حکومت عرب ملکوں کے ساتھ اپنی فضائی حدود کھلوانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کررہا ہے۔ دوحہ نے بین الاقوامی فضائی سروس کے حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے’ایکاؤ’ میں فضائی حدود کھلوانے کے لیے شکایت کی ہے۔

امیر قطر اور ایکسن موبیل آئل کمپنی کے سربراہ کے درمیان ملاقات روسی گیس کمپنی نوفیٹک کے اس اعلان کے بعد کی گئی جس میں روسی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قطر کو دنیا کو مائع گیس فراہم کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ ایکسن اور قطر کے درمیان گذشتہ دس سال سے کئی معاہدوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ امریکی کمپنی نے قطر کو مائع گیس سپلائی کرنے والے کلیدی ملکوں میں شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

قطر پٹرولیم کے ساتھ مل کر کام کرنے والی امریکی کمپنی کو متحدہ عرب امارات کی طرف سے سپلائی روٹس کی بندش کے بعد گیس کی منتقلی میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔