.

غزہ، لبنان پر جنگیں مسلط کرنے والے اسرائیلی مرد آہن کی حالت زار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں تین سال تک ملک کے سیاہ سفید کے مالک رہنے والے سابق مرد آہن ایہود اولمرٹ کی جیل میں موجودہ حالت زار اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

سنہ 2006ء میں اقتداری سنھبالتے ہی ایہود اولمرٹ نے لبنا اور سنہ2008ء میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر فوج کشی کی۔ یہ دونوں جنگیں اولمرٹ کے لیے عوامی نفرت کا باعث بن گئیں۔ ان جنگوں میں جہاں اسرائیلی فوج اپنے مزعومہ مقاصد میں بری طرح ناکام رہی بلکہ اسے دونوں جنگوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فوج اور اولمرٹ کی بدنامی میں اس وقت اور اضافہ ہوا جب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی فوج پر غزہ اور لبنان جنگوں میں نہتے شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کے ثبوت پیش کیے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں اولمرٹ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تاہم وہ سنہ 2009ء میں عبوری حکومت کےسربراہ رہے۔ آخر کار رہی سہی کسر رشوت وصولی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات نے نکال دی جس کے باعث سابق اسرائیلی مرد آہن کو جیل کی سلاخوں کےپیچھے پہنچا دیا۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر جیل کی ایک اسپتال سے موصوف کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں وہ انتہائی لاغر اور نحیف ونزار دکھائی دیتے ہیں۔

غالبا یہ تصویر حالیہ ایام میں ان کے اسپتال داخل کیے جانے کے بعد لی گئی تھی۔

اسرائیلی جیل خانہ جات کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ 71 سالہ اولمرٹ کو گذشتہ منگل کو سینے میں تکلیف کی شکایت پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

حال ہی میں اسرائیلی پولیس نے تل ابیب میں ایک چھاپ خانہ پر چھاپہ مارا جہاں اولمرٹ کی یاداشتوں کی طباعت کی تیاری کی جا رہی تھی۔ اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ پولیس اس بات کی چھان بین کررہی کہ آیا سابق صدر نے اپنی سوانح عمری میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات افشاء تو نہیں کی ہیں۔

سنہ 2006ء سے 2009ء تک اقتدار میں رہنے والے ایہود اولمرٹ کو رشوت وصولی اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کے الزام میں فروری 2016ء کو حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد انہیں تل ابیب کے جنوب مشرق میں واقع ماسیاھو جیل منتقل کیا گیا تھا۔

قبل ازیں دسمبر 2015ء کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو سنائی گئی چھ سال قید کی سزا کم کرتے ہوئے ڈیڑھ سال کردی تھی۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اولمرٹ کے خلاف کرپشن کے دو میں سے ایک کیس میں انہیں بری کردیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق 5 لاکھ شیکل رشوت کیس میں اولمرٹ کو بری کردیا گیا تھا جب کہ انہیں 60 ہزار شیکل رشوت وصول کرنے کے کیس میں ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اولمرٹ اور اس کے 15 دیگر مقربین کے خلاف بیت المقدس میں ایک رئیل اسٹیٹ منصوبے میں القدس کے میئر کی حیثیت سے رشوت وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا تاہم اولمرٹ اپنے اوپر عاید کردہ الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔