حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین کو امریکا نے ’دہشت گرد‘ قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار حزب المجاہدین کے رہنما سید صلاح الدین [محمد یوسف شاہ] کو دہشت گرد قرار دے کر عالمی دہشت گردی کی خصوصی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

پیر کو کیے جانے والے محکمہٴ خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق، ’’یہ اقدام ایسے غیر ملکی دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کیا جاتا ہے، جو دہشت گردانہ حرکات میں ملوث رہا ہو، یا جن کے عزائم و عمل کو امریکی شہریوں، مفادات یا قومی سلامتی، امریکہ کی بیرونی پالیسی یا معیشت کے لیے خطرے کا باعث گردانہ جاتا ہو‘‘۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین کے ساتھ لین دین کی ممانعت عائد کردی گئی ہے، جب کہ امریکا میں اُن کی کسی بھی جائیداد یا مفاد کو منجمد کردیا گیا ہے۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ ستمبر، 2016ء میں صلاح الدین نے عہد کیا تھا کہ وہ تنازع کشمیر کے کسی پُرامن حل کا راستہ روکیں گے، مزید کشمیری خود کش بم باروں کو تربیت دیں گے اور عہد کیا تھا کہ وہ وادی کشمیر کو ’’بھارتی افواج کا قبرستان‘‘ بنائیں گے۔

’’سرکردہ رہنما کے طور پر سید صلاح الدین کے عہد میں حزب المجاہدین نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں اپریل 2014ء میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جس میں دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا، جس میں 17 افراد زخمی ہوئے تھے‘‘۔

امریکی اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’’آج کا اقدام امریکی عوام اور بین الاقوامی برادری پر واضح کرتا ہے کہ محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین دہشت گردانہ حرکات میں ملوث رہے ہیں یا اُن سے دہشت گردی کا خدشہ ہے یا خطرہ لاحق رہا ہے‘‘۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت کا یہ اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی ملاقات سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جس میں دونوں ملک اربوں ڈالر مالیت کے اسلحہ خریداری کے معاہدات پر دستخط کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں