.

علی خامنہ ای "گولی چلانے کی آزادی" کی اصطلاح سے پیچھے ہٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی اور اعتدال پسند رکن پارلیمنٹ علی مطہری کے خلاف شدید نکتہ چینی سامنے آنے کے بعد مرشد اعلی علی خامنہ ای نے اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ "گولی چلانے کی آزادی" کی اصطلاح کا مطلب انارکی، دوسروں کو سب و شتم کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ اس کا مطلب " ثقافتی عمل" ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق انہوں نے یہ بات پیر کے روز تہران میں عید الفطر کے خطبے میں کہی۔

واضح رہے کہ تقریبا دو ہفتے قبل علی خامنہ ای نے "گولی چلانے کی آزادی" کے نام سے ایک عسکری اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ خامنہ ای نے ایران کے جنگی افسران سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومتی اداروں کی جانب سے سیاسی اور ثقافتی ذمے داریوں کی انجام دہی میں انتشار کی صورت میں یہ افسران خود سے ضروری فیصلے اور اقدامات کر لیں۔

ایرانی حلقوں اور اپوزیشن کے درمیان وسیع تنازع پیدا کرنے والے اس بیان کے چند روز بعد ہی علی خامنہ ای کی قریبی شخصیات نے گزشتہ جمعے کے روز "یومِ قُدس" کے موقع پر مظاہروں کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے روحانی کو ایران کے ایک سابق صدر حسن بنی سے تشبیہہ دی جو 1982ء میں عراق ایران جنگ کے دوران خمینی کے ساتھ اختلاف کے بعد ایران سے فرار ہو گئے تھے۔

ایرانیوں کا کہنا ہے کہ " گولی چلانے کی آزادی" کی اصطلاح کا استعمال جنگ اور معرکوں کی صورت حال میں ہی ایرانی سڑکوں پر ہو گا.. جہاں فوجی اپنے کمانڈر سے محروم ہو جائیں اور اس صورت حال میں وہ اپنے دفاع کے لیے خود فیصلے کریں۔

ایرانی حزب اختلاف کے تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ 1989ء میں سیاسی کارکن اور مصنف داریوش اور ان کی اہلیہ براونہ کی ہلاکت اور مجيد شريف، محمد مختاری اورمحمد جعفر جیسے مصنفین کا قتل مرشد اعلی کے قریبی سخت گیر حلقوں کے فتوؤں کے نتیجے میں ہوا۔

ان جرائم کے مرتکب تمام افراد کو جیل میں مختصر مدت گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔