.

ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی کا پاکستان سے دہشت گردی کے حملے رکوانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک دوسرے کو دوست اور شراکت دار قرار دیا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے ، افغانستان میں جنگ اور دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے مل جل کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نریندر مودی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور بھارت دونوں ہی دہشت گردی کی برائی اور سخت گیر نظریے سے متاثر ہوئے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے ملاقات میں پاکستان پر زوردیا ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ اس کا علاقہ دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

ٹرمپ اور مودی نے تمام اقوام پر زور دیا ہے کہ ’’وہ اپنے علاقائی اور بحری حدود کے تنازعات کو پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق طے کریں‘‘ لیکن انھوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان گذشتہ سات عشروں سے جاری تنازع کشمیر کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان ملاقات خوش گوار ماحو ل میں ہوئی اور وہ رپورٹروں کے سامنے بھی ایک دوسرے سے ہنستے مسکراتے ہوئے بغل گیر ہو رہے تھے۔بھارتی وزیراعظم کے دورے کے موقع پر کوئی بڑا اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے36 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز مالیت کے ایک طیارے کی بھارت کو فروخت کی منظوری دے دی ہے ۔اس کے علاوہ امریکا بھارت کو بیس بغیر پائلٹ جاسوس طیارے فروخت کرے گا۔

امریکا بھارت کو دفاعی ساز وسامان مہیا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے ۔دونوں ملکوں نے 2008ء کے بعد سے 15 ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کے دفاعی سمجھوتے کیے ہیں۔

مودی اور ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی عزم کیا ہے ۔اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:’’ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات کبھی مضبوط نہیں رہے ہیں اور نہ کبھی بہتر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا : ’’ جناب وزیر اعظم میں آپ کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتاہوں ، تاکہ ہم اپنے ملکوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرسکیں ،اپنی معیشتوں کو ترقی دے سکیں اور دو طرفہ منصفانہ بنیاد پر تجارتی تعلقات استوار کرسکیں‘‘۔

اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ ’’ ہم امریکا کو بھارت کی سماجی ،اقتصادی ترقی کے تمام پروگراموں اور اسکیموں میں ایک بنیادی شراکت دار سمجھتے ہیں‘‘۔دونوں لیڈروں نے تارکین وطن اور موسمیاتی تبدیلی ایسے متنازع مسائل کے بارے میں صحافیوں کے سامنے کوئی گفتگو نہیں کی ہے۔

نریندر مودی نے واشنگٹن میں پہلے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والی سرکردہ حریت پسند جماعت حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور انھیں عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔امریکا کے اس فیصلے کو بھارت کی سفارتی فتح قرار دیا جارہا ہے۔